شکستہ دل مخدوم خاندان اور پیپلزپارٹی
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے صوبہ سندھ کی سرور نوح کی اہم گدی کے سجاہد نشین مخدوم جمیل الزمان کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دبئی میں ان سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے رابطہ کرکے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے گلے شکوہ دور کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سے پہلے سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو واضح کرچکے ہیں کہ پیپلز پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا ہے، لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ نواب یوسف تالپور، میر ہزار خان بجارانی سمیت سینئر رہنماوں کی بڑی فہرست ہے جو ناراض ہے اور گزشتہ دنوں محذوم خاندان نے اپنا وزن ڈال کر اس کا پلڑا بھاری کردیا۔
جس کے بعد مخدوم خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان کشیدگی کمروں سے نکل کر عوامی اجتماعات تک آگئی تھی، مخدوم جمیل الزمان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اب وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید عرصہ رہنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے والد مخدوم امین فہیم کی وصیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ بے وقت ضرورت اس کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے۔
ہالا کے مخدوم خاندان کی یہ تیسری نسل ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ نبھاتی چلی آرہے ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مخدوم طالب المولیٰ کے ذاتی دوستی تھی اور پیپلز پارٹی کا پہلا کنوینشن بھی ہالا میں ہی منعقد کیا گیا تھا، والد کا یہ سیاسی اور ذاتی رشتہ مخدوم امین فہیم بھی نبھاتے آئے تھے۔
چند ماہ قبل مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد یہ گدی مخدوم جمیل الزمان نے سنبھالی ہے۔ ہالا میں اپنے مریدوں اور عقیدتمندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انہیں بتایا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں جہاں بھی سروری جماعت کے لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کی فہرست حکومت سندھ کو دے دی گئی ہے اور انہیں آگاہ کیا ہے کہ انہیں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستیں دی جائیں اب انہیں انتظار ہے کہ پارٹی کتنا مثبت جواب دیتی ہے۔
مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر رہے اور انہیں بینظیر بھٹو کا اعتماد بھی حاصل رہا ۔سندھ میں اپنے خاندان کے علاوہ اپنی جماعت کے بعض بااثر افراد کو اسمبلی کی نشستوں اور دیگر معاملات میں میں ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں ۔لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب صدر آصف علی زرداری نے قیادت سنبھالی تو صورتحال میں تبدیلی آنے لگی اور مخدوم امین فہیم پچھلی نشست پر چلے گئے۔
بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب وصیت کا معاملہ سامنے آیا تھا تو مخدوم امین فہیم نے تصدیق کی تھی کہ یہ محترمہ کی ہی وصیت ہے اس کے بعد آصف علی زرداری نے اعلان کیا تھا کہ مخدوم صاحب ہی وزیر اعظم بنائے جائیں گے۔ انہوں اس ذو معنی جملے سے مخدوم امین فہیم، مخدوم شاہ محمود قریشی اور مخدوم یوسف رضا گیلانی تینوں کو خوش کردیا تھا یہ تینوں صف اول کے رہنما تھے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر اعظم سندھ سے تعلق رکھتا ہے تو تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ یہ باری اب مخدوم امین کی ہے۔
آصف علی زرداری نے بعد میں جب یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا گیا تو مخدوم امین فہیم نے سمجھا کہ انہیں شاید وصیت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس کے بعد سے وہ آخری وقت تک شکستہ دل کے ساتھ پارٹی میں رہے۔
مخدوم امین فہیم بھی اپنی جماعت سے ناراض ہوتے تھے لیکن انہیں منالیا جاتا تھا یا وہ خطرے کی لائین عبور نہیں کرتے تھے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جب ان کی بے بسی پر بیان دیا تھا تو مخدوم امین نے کہا تھا کہ وہ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ہیں اسکو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے ہیں۔ لیکن موجودہ گدی جمیل الزماں کے پاس آنے کے بعد انہوں نے والد کی سیاست اور روایت کے بجائے اپنا طریقہ کار اپنایا ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی سے گزشتہ چند سالوں میں ناہید خان ان کے شوہر صفدر عباسی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، نبیل گبول اور فیصل عابدی اپنی راہیں الگ کرچکے ہیں لیکن سوائے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے، پارٹی چھوڑنے والے کسی اور سیاست دان نے کوئی جگہ نہیں بنائی، حالانکہ بلدیاتی انتخابات میں لاڑکانہ میں عباسی خاندان نے بڑے پیمانے پر اتحاد بھی کیے لیکن کوئی برتری نہیں مل سکی تھی۔
مخدوم خاندان کی یہ بھی خواہش ہے کہ جس طرح مخدوم امین فہیم کے پاس پارٹی کا مرکزی سینئر عہدہ تھا ۔یہ اب مخدوم جمیل الزمان کو دیا جائے، یقینن سیاسی اور جمہوری روایت میں اس قسم کی فرمائش کوئی نیک شگون نہیں ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں پروگرام پر چلتی ہیں گدی کے حکم پر نہیں۔ اس لیے صرف سروری جماعت کے حوالے سے بات کرنا سیاسی دانشمندی نہیں کیونکہ ہر حلقے میں سروری جماعت کے علاوہ دوسرے بھی ووٹر ہوتے ہیں جو سب مل کر ہی ایک نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔
سندھ میں ان دنوں گرینڈ ڈیموکریٹس الائنس کے نام سے مسلم لیگ فنکنشل سمیت قومپرست جماعتوں کا ایک الائنس موجود ہے، جس کی سربراہی پیر پاگارہ کر رہے ہیں، بعض تجزیہ نگار مخدوم خاندان کی دہمکی کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی قیادت کی تردید اور وضاحتیں اپنی جگہ پر، اس وقت یہ افواہیں عام ہیں کہ پیپلز پارٹی میں بھی کوئی فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے اور اس صورتحال میں مخدوم خاندان اپنے آپشن کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اگر پیپلز پارٹی میں رہے تو اپنی روایت اور شناخت برقرار رکھے بصورت دیگر کہیں دوسرے فریق کے پاس جائے تو اپنا شیئر دکھا سکے۔
سروری جماعت کو حر جماعت کی طرح کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ اس کا ووٹ تقسیم ہے اس کے مرید سندھ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں اس کے برعکس سندھ کے چار سے زائد اضلاع میں حر جماعت کاووٹ بینک فیصلہ کن حیثیت میں موجود ہے جہاں سے مسلم لیگ فنکشنل نسشتیں حاصل کرتی رہی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں مخدوم خاندان نے ایک قومی اور تین صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ہالا میں تو ایک عام تاجر نے مخدوم امین فہیم کے سامنے الیکشن لڑکر اچھے خاصے ووٹ حاصل کرلیے تھے اور وہ مخدوم خاندان جو حویلی میں بیٹھے بیٹھے جیت جاتے تھے ان کو باہر نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میںکے طرز حکمرانی اور بدعنوانی کی کئی شکایات ہیں کئی وزرا ءاور سیکریٹری اس وقت کرپشن کے مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا مخالفین فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
کیا مخدوم آزادانہ سیاست کرسکتے ہیں یا انہیں سیاسی سہارے کی ضرورت پیش آئیگی؟ یقینن بغیر سہارے کے سیاست کے لیے ان کے پاس ذرائع اور سیاسی وسائل ہیں کیونکہ مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد کی نسل میں اتنا کوئی بڑا نام نہیں جس کے تعلقات اس قدر ہوں۔ اتنا بڑا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ہالا شہر کی حالت ناقابل دید ہے یہاں لوگ بھی اس خاندان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں سندھ تو دور کی بات ہے۔
اگر مخدوم خاندان پاگارہ کی قیادت میں گرینڈ الائنس کے ساتھ مل جائے تو بعض علاقوں میں یہ موثر ہوسکتے ہیں لیکن بقول ایک تجزیہ نگار کے اس الائنس میں بھی وزیر اعلیٰ کے منصب کے کئی امیدوار ہیں مخدوم خاندان کو کوئی بڑا شیئر یہاں سے ملنا مشکل ہے۔
Sent on March 20, 2016
Daily Ausaf
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی


No comments:
Post a Comment