پیپلز پارٹی حکومت کو ایک اور دھچکا
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی
سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو برخاست کرکے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہلاکر رکھ دیا ہے جس سے یقینن بیوروکریسی کو یہ سبق حاصل ہوکا ہوگا کہ حکومت کی ہر بات مانی نہیں جاسکتی۔
آئی جی غلام حیدر جمالی پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس میں قوائد و ضوابط کی خلاف کرتے ہوتے بھرتیاں کیں اور فنڈز کا بے جا استعمال کیا، موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق بھی کردی تھی۔
جس وقت یہ تحقیقات جاری تھی تو آئی جی غلام حیدر جمالی نے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین اے ڈی خواجہ اور ثنااللہ عباسی کو واپس و ان کے پیرنٹ محکموں میں بھیجنا کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ حکم ہے کہ ان افسران کو ان ہی اداروں کی طرف بھیجا جائے جہاں سے بنیادی طور پر ان کا تعلق ہے لہذا اے ڈی خواجہ فارین آفس اور ثنا اللہ عباسی کو متعلقہ محکمے میں بھیجا جائے۔
کراچی میں بدامنی کے خلاف حالیہ سماعت کے موقعے پر بھی جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی غلام حیدر جمالی کو متنبہ کیا تھا کہ انہیں اس عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے، جس پر آئی جی غلام حیدر جمالی نے پسنددگی کا اظہار کیا تھا اور بات اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے بینچ پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کرتے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کمیٹی کے اراکین سے رابطے میں ہیں اس لیے ان پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کے کہنے پر وہ اس بینچ سے علیحدہ نہیں ہوسکتے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی آئی جی جمالی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بے اعتمادی کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں جب جمع کے روز پولیس میں بے قاعدگیوں کا مقدمے زیر سماعت آیا تو آئی جی غلام حیدر جمالی تنہا ہوگئے عدالت نے حکومت کو ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کے اراکین کا کہیں بھی تبادلہ وغیرہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے سوال کیا گیا کہ ایک افسر پر جب سنگین نوعیت کے الزامات ہوں تو کیا اس کو عہدے پر رکھنا درست ہے؟
عدالت کے اس نوعیت کے ریمارکس آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بالاخر انہیں سبکدوش کردیا، دوسرے روز وزیر اعلیٰ کا ہمدرانہ بیان بھی شایع ہوا کہ ان کی کارکردگی اچھی ہے۔
سابق آئی جی غلام حیدر جمالی پر سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت بھی مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں ان پر فرد جرم نافذ ہوچکی ہے، یہ مقدمہ دراصل سوموٹو ہے جس کی شکایت کندہ اور گواہ عدالت خود ہی ہے، جس روز پاکستان پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے خلاف دائر ہونے والے اسنداد دہشت گردی کے مقدمات سے ضمانت کے لیے آنے والے تھے تو اس روز اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور پولیس کے دیگر محکموں نے داخلی راستے کا گھیراو ¿ کرکے نہ صرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا حامیوں تو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس تشدد کو کیمروں میں قید کرنے والے صحافیوں پر بھی ٹوٹ پڑے۔
رجسٹرار نے چیف جسٹس ک ریفرنس بہیجا کہ پولیس کے اس عمل کی وجہ سے سائل کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت پہچنے میں دشواری ہوئی، اس سنجیدہ معاملے پر جب عدالت نے آئی جی غلام حیدر جمالی نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاضر ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے انہیں توہین عدالت کا نوٹیس جاری کیا۔
سپریم کورٹ میں سندھ پولیس کا ایک اور بڑا معاملہ بھی بم کی طرح ٹک ٹک کر رہا ہے جو بھی کسی وقت پھٹ سکتا ہے، یہ ہے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ ہے، سندھ حکومت نے سربیا سے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا سودہ کیا تھا احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل سابق ایس ایس پی شکیب قریشی کی معرفت کی گئی جو لندن میں قیام کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریبی حلقے میں شامل رہے اور سندھ میں لینڈ یوٹلائزیشن سمیت کئی محکموں کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔
پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے یہ بکتر بند گاڑیاں کم قیمت پر بنانے کی پیشکش موجود تھی جس کو نظر انداز کیا گیا، جس پر کچھ مقتدر حلقوں نے ناراضگی کا اظہار کیا یقینن جب ملکی ضروریات کی اشیا باہر سے منگوائی جائیں گی تو پاکستان میں اسلحہ سازی کی صنعت پر اعتماد میں کمی ہوگی، اسی طرح امریکی اداروں کی جانب سے 40 ملین رپے فی بکتر بند کی پیشکش کو مسترد کیا گیا اور اس کے برعکس سربیا کی ایک کمپنی سے 120 ملین رپے فی گاڑی کا سودہ کیا گیا، یہ گاڑی بھی نئی نہیں بلکہ استعمال شدہ تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے شہر کو نظر انداز کرکے پیپلز پارٹی حکومت نے اپنے ہی گڑہ لیاری کی صورتحال کا جواز بناکر موقف بیان کیا کہ وہاں کارروائی کے لیے بکتر بند گاڑیوں کی فوری ضرورت ہے اس حوالے سے ایمرجنسی کی بنیاد پر ان کی خریداری کے لیے پیپرا کے قوانین یعنی ٹینڈر کرکے ان کی خریداری کو مسترد کردیا، آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ بھی پولیس اور سندھ حکومت دونوں کے لیے ایک دھچکا بن سکتا ہے۔
سندھ پولیس میں افسران کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے، جب ترقیوں اور تعیناتیوں میں کمیشن پاس افسران کو نظر انداز کیا گیا تھا تو کمیشنڈ افسران نے عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں کئی نان کمیشنڈ افسران کی کئی گریڈ تنزلی ہوگئی یہ بات بھی پولیس کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی قیادت کو پسند نہیں آئی تھی۔
کراچی میں جب آپریشن شروع ہوا تو شاہد حیات کراچی پولیس کے سربراہ تھے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ تعیناتی بھی ان کے بینچ میٹ شقیب قریشی کی تعاون سے سامنے آئی لیکن جب آپریشن نے تیزی پکڑی تو صدیوں کے یارانے گئے کی طرح شاہد حیات کا تبادلہ کیا گیا، شاہد حیات کو رینجرز سمیت دیگر اداروں کا تعاون حاصل تھا اس وجہ سے پولیس کو مرکزی کردار رہا ان کے تبادلے کے بعد پولیس پر بے اعتمادی آگئی، شہر میں کئی ایسے افسران تھے جو رینجرز حکام کی تجویز پر تعینات کیے گئے تھے لیکن بعد میں غلام قادرو تھیبو کی آمد کے بعد یہ افسران اندرون سندھ بدلی ہونے لگے جب شہر میں پولیس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جس میں ایک پر رینجرز تو دوسرا پرو آئی جی گروپ بن گیا۔
اس کشیدگی میں اے آئی جی ثنااللہ عباسی اور ڈی آئی جی سلطان خواکہ کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں کیونکہ اگر وہ یہاں ہوں گے تو عہدے بھی دینے پڑیں گے کیا یہ دونوں افسران قابل نہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ثنااللہ عباسیی کی قیادت میں کاو ¿نٹر ٹیرر ازم محکمے کی از سر نو تشکیل کی گئی تاکہ فرقہ ورانہ، لسانی، اور بیا الاقوامی دہشت گرد گروپوں کو الگ الگ کیا جائے، اسی طرح سلطان خواجہ نے بائیو میٹرکس نظام پر کام کیا جس کے تحت گرفتار ملزمان کی فنگر پرنسٹ لیے جاتے تاکہ فوری طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے قبل کن وارداتوں میں ملوث ہیں اس طرح ان ملزمان کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بھی رکھا گیا اورشہر کے تھانوں کو آپس میں کنیکٹ کیا گیا۔
نجی نیوز چینلز پر ان دنوں حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم جاری ہے، جس میں کراچی آپریشن کا کریڈٹ لیا جارہا ہے، یہ حقیقت بھی ہے کراچی آپریشن میں یقینن پولیس نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے دوران 1400 کے قریب اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے، لیکن اعلیٰ قیادت کے کرپشن اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے یہ قربانیاں نہ گائی جاتی ہیں نہ گنوائی جاتی ہیں حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ ہر جگہ پولیس ہی اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
http://www.dailyausaf.com/story/98635
http://www.dailyausaf.com/story/98635
No comments:
Post a Comment