Saturday, March 19, 2016

کراچی میں نامعلوم افراد کی واپسی


 کراچی میں نامعلوم افراد کی واپسی 
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

کراچی میں ایک بار پھر نامعلوم افراد کا راج ہے، یعنی ایم کیو ایم کے منحرف رہنما مصطفیٰ کمال کی نامعلوم جماعت، نامعلوم افراد کی جانب سے شہر کے بعض علاقوں میں مصطفیٰ کمال کے پوسٹر لگائے گئے اور نامعلوم ہی افراد نے انہیں پھاڑ بھی دیا۔

اسی طرح ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا دعویٰ ہے کہ نامعلوم کالز پر ان کے اراکین اسمبلی کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اور مشورہ دیا جارہا ہے کہ پل کی اس طرف شامل ہوجائیں، ڈاکٹر فاروق ستار کا اشارہ یقینن مصطفیٰ کمال کی طرف ہی تھا۔ لیکن مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار ایک شریف النفش اور پھنسے ہوئے شخص ہیں اس لیے وہ ان سے کوئی شکوہ نہیں کریں گے۔

شہر کے امرا ءکے رہائشی علاقے ڈفینس میں رہے کر غرنا کے غم میں غرق ہونے والے مصطفیٰ کمال اس قوت خود کو ایک نجات دہندہ، خوددار، ایماندار اور وطن دوست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ انیس قائم خانی، ڈاکٹر صغیر احمد اور وسیم آفتاب بھی اس وقت تک ان کی ہاں میں ہاں ملا چکے ہیں۔
قابل حیرت بات یہ ہے کہ رابطہ کمیٹی اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے ان اہم رہنماو ¿ں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں اور انہیں اعتماد میں ہی کبھی نہیں لیا گیا، کراچی کے معاملات کراچی تنظیمی کمیٹی دیکھتی رہی ہے جس کے آخری رہنما حماد صدیقی تھے جس کو الطاف حسین نے تحلیل کردیا تھا۔

چند ماہ قبل الطاف حسین کی تقریر کو یاد کریں جس میں انہوں نے کھل کر رابطہ کمیٹی، وزرا اور دیگر ذمہ داران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور کہا تھا کہ پارٹی کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اتوار بازار، چائنا کٹنگ، ملازمتوں کے ساتھ تنظیمی وظیفے بھی لینے سمیت تیسر ٹاو ¿ن میں اردو آبادی آباد کرنے کے نام پر پلاٹنگ وغیرہ کے الزامات خود الطاف حسین نے ہی عائد کیے تھے۔

مصطفیٰ کمال جب سٹی ناظم سے فارغ ہوئے تو ایک سال تک لاپتہ رہے۔ اس عرصے میں وہ کہاں رہے، اس کا جواب انہوں نے نہیں دیا ان سے ایسا سلوک کیوں روا رکھا گیا یہ بھی ایک راز ہے۔ جماعت اسلامی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے جب تنظیم کے فلاحی ادارے الخدمت فاو ¿نڈیشن کی ذمہ داری سنبھالی اور مقامی اور بین الاقوامی اداروں اور شخصیات سے فنڈس لینے میں کامیابی حاصل کی تو ایم کیو ایم نے اپنے فلاحی ادارے کے کے ایف یعنی خدمت خلق فاو ¿نڈیشن کی سربراہی ان کو دی گئیں بعض جے آئی ٹیز میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ اسی ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے اسلحے کی ترسیل کی جاتی تھی مزید تفصیلات صولت مرزا کی دوسری جے آئی ٹی میں موجود ہیں۔

اسی طرح بلدیہ فیکٹری واقعے کی جے آئی ٹی میں بھی انیس قائم خانی اور حماد صدیقی کا نام آیا اور تفصیلات اخبارات میں شایع بھی ہوئیں لیکن عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ان میں یہ نام شامل نہیں تھے۔ جے آئی ٹی میں پولیس کے ساتھ ملٹری انٹلی جنس، آئی ایس آئی، انٹلی جنس بیورو، رینجرز کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں یہاں پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما فیصل عابدی کے یہ کہنا درست لگتا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے ان منحرفین کا نام غلطی سے آگیا ہے تو پھر ان اداروں کے تمام اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے ان شخصیات کو بدنام کیا ورنہ لوگوں کا جے آئی ٹی سے اعتماد اٹھ جائے گا اگر یہ حکام اپنی رپورٹ میں سچے ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وہ جو ایک ڈٹرجنٹ کے اشتہار میں کہا جاتا ہے کہ ” داغ تو اچھے ہوتے ہیں” وہ حالیہ کہانی کے بارے میں سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ وہ لوگ شامل ہو رہے ہیں جن کا دامن صاف نہیں ہے اور کیا اسٹیبلشمنٹ بجائے ایسے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے دباو ¿ ڈال کے صفیں تبدیل کر رہی ہے یعنی یہاں بھی کالعدم تحریک طالبان جیسے حکمت عملی نظر آتی ہے کہ پھوٹ ڈال کر لڑا دیا جائے، لیکن اگر صورتحال سنگین ہوتی ہے تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی کیونکہ ملک کے سب سے بڑے شہری میں جنگی حکمت عملی کام نہیں کرسکتی۔

مصطفیٰ کمال پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے دور نظامت کی آڈٹ کیوں نہیں کرنے دی گئی تھی اور حالیہ دنوں سرگرم قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے ان کے معاملے میں کیوں خاموش ہے۔؟ ایک سوال ایم کیو ایم کے حلقوں سے ہمارے کانوں تک بھی پہنچا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ خدمت خلق فاو ¿نڈیشن کا جب حساب کتاب لینے یعنی آڈٹ کی بات ہوئی تو مصطفیٰ کمال ناراض ہوگئے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ حماد صدیقی اور انیس قائم خانی کسی جرم میں شریک نہیں ہیں لیکن یہ انہوں نے نہیں عدالت نے ثابت کرنا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک فریق کے لیے راہ ہموار کی جارہی تو دوسروں کو اسی میں پھنسایا جارہا ہے مثلا ڈاکٹر عاصم نے کیا مبینہ مشتبہ ملزمان کا خود علاج کیا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان میں جو سہولت کار کا ٹرم استعمال کیا گیا ہے پھر وہ کہاں فکسڈ آئیگا۔
کراچی میں سنیچر کی شب گلشن اقبال اور عیسیٰ نگری میں رینجرز کی پوسٹ پر دستی بم حملے کیے گئے ہیں ۔ کیا کراچی میں امن کے قیام کی کوششیں اسے مزید کشیدگی کی طرف تو نہیں دہیکل رہی ہیں، ماضی میں بھی آپریشن کے بعد کے ایکشن کا نتیجہ کئی لاشوں کی صورت میں نکلا تھا ۔ موجودہ وقت اسٹبلشمنٹ کی پالیسی بظاہر تو ”گو سلو“ جا رہی ہے لیکن اگر اس کی تمام توانائیاں ایک جماعت کو توڑنے اور دوسری کو بنانے میں صرف ہوں گی تو دہشت گردی اور خاص طور پر انسداد دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہے وہ کہاں جائیگا۔

 سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر سیاسی تبدیلی کا کوئی فریق خواہشمند بھی ہے تو بجائے عوامی رابطہ مہم چلانے کے میڈیا کے کندھے پر چڑھ کر کتنا سیاسی سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ مصطفیٰ کمال یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ ان نشستوں پر انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے جو ان کے ساتھ شامل ہونے والے اراکین اسمبلی چھوڑ رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے باغ جناح میں جلسے کا اعلان کیا ہے، یقینن اس جلسے میں لوگ دستیاب ہوجائیں گے کیونکہ کراچی میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن اور خاص طور پر برمی، بنگالی اور بہاری آباد ہیں جو کچھ بڑے اداروں کے زیر اثر بھی ہیں کم سے کم وہ پنڈال تو بھر ہی لیں گے، لیکن مصطفیٰ کمال کو یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کم ٹرن آو ¿ٹ اردو آبادی کا ہی رہا ہے یعنی پچیس سے تیس فیصد لوگوں نے ایم کیو ایم کے علاوہ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو بھی اس قدر ووٹ نہیں دیا جس کی توقع کی جارہی تھی تو کیا وہ الطاف بھائی سے لیکر اپنا ووٹ مصطفیٰ کمال کی گود میں ڈال دیں گے، جن کے بارے میں کئی تجزیہ نگار یہ لکھ چکے ہیں کہ وہ کسی کی گود میں ہیں۔

http://www.dailyausaf.com/story/98995


No comments:

Post a Comment