یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔۔ سہیل سانگی
مشترکہ مفادات کی کونسل: لو جی رسم پوری ہوگئی
مشترکہ مفادات کی کونسل ے ایک سال کی تاخیر کے بعد گزشہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا واقعی کوئی فیصلہ کیا گیا؟ اس کا جواب یقیننا نفی میں ہی آئیگا کیونکہ سوائے اس بات کہ رواں ماہ مارچ میں مجوزہ مردم شماری ملتوی ہوگئی ہے اور کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا حالانکہ یہ فیصلہ چند ہفتے پہلے ہی ہوچکا تھا جب عسکری قیادت نے تین لاکھ سے زائد فوجی جوان فراہم کرنے سے معذرت کی تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ کیونکہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں فوج مصروف عمل ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہے۔
وجہ صرف یہ ہی نہیں تھی، خود حکومت اور محکمہ شماریات اور اس سے منسلک اداروں کے پاس بھی تیاری مکمل نہیں تھی، جبکہ یہ ایک ماہ کے اندر پورے ملک میں ہونے والی ایک بڑی مشق ہے، جس کے لیے تیاری اور ساتھ مطلوبہ سامان کی اشد ضرورت ہے جوکہ چند ہفتوں میں ممکن نہیں تھا۔
تمام سرکاری اداروں میں براجمان بیورکریسی اتنی اچھی اور فعال ہوتی تو عام آدمی کے مسائل خود بخود حل ہوجاتے، ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پر معمولی کام کی بھی اگر پیروی نہ کی جائے تو وہ کام نہیں ہوتا ہے۔ مردم شماری میں تو بڑے پیمانے پر فائیلوں کی حرکات اور فیصلہ سازی کے معاملات تھے۔
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نے یہ موقعہ دیاہے کہ مردم شماری ملتوی کرنے الزام اس کے گلے میں ڈالا جائے۔ حد کمال یہ ہے کہ اجلاس میںمردم شماری کے حوالے سے ماضی کے اعتراضات اور تحفظات کو چھوا تک تک نہیں گیا ہے۔یعنی سی سی آئی نے ایک ہی فیصلہ کیاکہ مردم شماری فی الحال نہ ہو۔ یہ تو فیصلہ نہیں بلکہ فیصلے کو روکنا کہلائے گا۔
مردم شماری کے بارے میں بڑے اعتراضات موجود تھے، پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ مردم شماری کا انعقاد اور اس کا انعقاد کس طرح کیا جائے یہ اختیار مشترکہ مفادات کی کونسل کا ہے، لیکن در حقیقیت کونسل خود ہی ہوا میں کھڑی ہے، آئین کے مطابق اس کا مستقل سیکریٹریٹ بنانا ہے، ا یک ایسا ادارا جس کا کوئی دفتر نہیں اور جس کا کام اجلاسوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے وہ کس طرح مردم شماری منعقد کرسکتی ہے؟
یہ ہی وجہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کو ایک ادارے کی حیثیت دینے سے مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان ابھی کئی معاملات لٹکے ہوئے ہیں جن کو ابھی طئے ہونا باقی ہے۔ اس ضمن سے کئی مشکلات اس کونسل کے سامنے آئیں گی۔ لیکن اس کی اپنی کوئی اہلیت اور گنجائش نہیں ہوگی تو یقینن اس کو دوسرے اداروں کی جانب دیکھنا ہوگا۔اگر آسان الفاظ میں کہا جائے کہ وفاقی حکومت اس ادارے کو فعال اور موثر دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ اس کو یہ خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت کے ہاتھ سے کچھ محکمے اور اختیارات صوبوں کے پاس چلے جائیں گے اس کا یہ مطلب ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مکمل طور پر عمل درآمد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا رہے۔
آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اگر اس کی روح کے مطابق عمل ہو تو عملی طور پر وفاق کی پاس صرف چھ محکمے رہ جاتے ہیں، یعنی خزانہ ، دفاع، فارین افیئرز، اور کمیونیکیشن وغیرہ۔ او پر صدق دل سے عمل کی صورت میں وفاقی بالادستی اور گرفت کمزور ہوگی جو وفاقی اداروں کے علاوہ دیگر بااثر اور طاقتور حلقے بھی نہیں چاہتے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف تو کھل کر اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خود مختیاری کی مخالفت کرچکے ہیں۔
مردم شماری پر دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ محکمہ شماریات میں صوبوں کی نمائندگی برابر نہیں ہے، یہ سوال سندھ اور خیبر پختون خواہ نے اٹھایا گیا ہے لیکن مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کے حالیہ اجلاس میں اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہی لیا جارہا ہے کہ جب بھی مردم شماری ہوگی اسی نظام کے تحت ہوگی۔
پنجاب کے علاوہ دیگر تینوں صوبوں کا تیسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ تارکین وطن کو مردم شماری میں شامل نہ کیا جائے، سید قائم علی شاہ نے اجلاس میں شرکت کے بعد سندھ اسمبلی کو بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کو اعتراضات تھے کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں پناہ گزین آئے ہیں جب تک نادرا یا کوئی اور ادارا ان کی رجسٹریشن نہیں کرتا اور انہیں اطمینان نہیں ہوجاتا مردم شماری منعقد نہ کی جائے۔
تاہم سندھ کے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ سندھ اور بلخصوص کراچی میں دونوں صوبوں سے کہیں زیادہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ جن کے بارے میں سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح واپس بھیجا جائے۔ اس مشکلات کے باوجود بھی وہ مردم شماری چاہتے ہیں کیونکہ یہ مشکلات تو رہیں گی۔
وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے چاروں صوبوں کو حصہ دینے کے لیے کہا گیا جس پر صوبہ سندھ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دوسرے صوبوں کے لوگ سندھ کے دار الحکومت کراچی میں آتے ہیں اس وجہ سے دوسرے صوبے اپنے حصے سے کراچی کے لیے بھی پانی دیں۔
سندھ اپنا یہ موقف قومی مالیاتی ایورڈ میں بھی ارکھتا آیا ہے۔کہ بڑے پیمانے پر ملک کے بالائی علاقوں اور تارکین وطن لوگوں کی سندھ میں آمد کی وجہ سے شہری سہولیات ، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقعوں پر دباو ¿ پڑتا ہے، اس لیے سندھ کے مالی وسائل میں اس بنیاد پر اضافہ ہونا چاہیے۔تاہم اس حوالے سے سندھ حکومت کے پاس پختہ ہوم ورک نہیں ہے، جو واضح الفاظ میں بیان کیا جاسکے۔
سندھ حکومت کی بیوروکریسی میں سوائے چند لوگوں کے باقی ایسے افراد موجود ہیں جن کو اپنے محکمے کی ترقیاتی بجٹ خرچ کرنا، اسکیمیں بھی بنانا نہیں آتیں۔ صوبائی حکومت جب یہ داغ لیکر بیٹھی ہے تو مستقبل کی منصوبہ بندی، وفاق و بین الصوبائی فورم پر میں بغیر ہوم ورک اور اعداد و شمار کے کیسے بات ہوسکتی ہے۔ بغیر دلائل کے اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش نہیں ہوسکتا۔
پیر کے اجلاس میں خیبر پختون خواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس بات پر زور دیا کہ افغان پناہ گزین کی ان کے صوبے میں واپسی کا بندوست کیا جائے ، اس طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی آئی کہ جس طرح ہر صوبے میں بلدیاتی انتخابات الگ الگ سطح پر منعقد کیے گئے اسی طرح مردم شماری بھی اسی طرز پر منعقد کی جائے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ دو صوبے مردمشماری نہیں چاہتے تھے جبکہ پنجاب کا موقف مبہم تھا۔
ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اگر اپوزیشن اکثریت میں نہں ہوتی تو شاید کئی آئینی ادارے اپنا کردار ہی ادا نہیں کرتے لیکن سینیٹ کے متحرک کردار نے ریاستی اداروں کو فعال رکھا ہوا ہے ، اسی سینیٹ کا ہی دباﺅ تھا کہ پندرہ روز کے اندر مشرکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خالق بھی ہیں اور اس ترمیم کے تحت نوے روز میں ایک بار مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کا اجلاس منقعد کرنا لازمی ہے لیکن تاحال ربانی صاحب ایسا نہیںکراسکے ہیں۔
کونسل کا حالیہ اجلاس ، ایک رسمی اجلاس کے طور پر سامنے آیا حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اجلاس کا ایجنڈہ صوبوں کی مشاورت سے طیے کیا جاتا اور صوبوں سے تجاویز لی جاتیں لیکن وفاق نے اپنی بالادستی قائم رکھی۔
سندھ کے قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مردم شماری ملتوی کرنے پر تنقید کی جارہی ہے، ان کا موقف ہے کہ مردم شماری کا انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں ملے گا کیونکہ پنجاب کا حصہ مزید تقسیم ہوگا اس لیے وفاقی حکومت خود ہی مردم شماری کے انعقاد میں دلچپسی نہیں رکھتی۔ بقول جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کے کہ میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعظم بن چکے ہیں اور وہ سندھ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
صوبے نظر انداز ہوتے ہوں تو ہوتے رہیں۔ وفاقی حکومت ایسے منصوبوں میں زیادہ سرگرم نظر آتی ہے جن کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں اس کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں جبکہ آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور قانون سازی میں اس کی دلچسپی کم ہے۔
No comments:
Post a Comment