Friday, March 11, 2016

رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات کی نئی شکل


رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات کی نئی شکل
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

کراچی آپریشن پر رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان ایک بار پھر اختلافات نے سر اٹھایا ہے۔ اس بار ان اختلافات کی جگہ کسی سیاسی فورم پر نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالت تھی، جہاں شہر میں بدامنی کیس کی سماعت جاری تھی۔

رینجرز کو حاصل اختیارات پر پہلے ہی سندہ حکومت اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ رینجرز کسی شخص کو بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت شبہ میں 90 روز کے لیے حراست میں لینے سے پہلے پہلے صوبائی حکومت کو آگاہ کرے گی، اس طرح بدعنوانی کے مقدمات میں تفتیش کرنا رینجرز کا اختیار نہیں۔ وفاقی حکومت نے اس قرار داد کو مسترد کرکے رینجرز کو اپنی طرف سے یہ اختیارات سونپ دیئے ۔

رینجرز نے سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت کے دوران بتایا کہ انہوں نے چھ ہزار ملزمان کو پولیس کے حوالے کیا جن میں سے گیارہ سو ناقص تفتیش کی وجہ سے رہا ہوگئے، اس کو بنیاد بناکر رینجرز نے تجویز پیش کی ہے کہ انہیں شہر میں اپنے تھانوں کے قیام، ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کرکے چالان پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالتیں متبادل عدالتی نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ پولیس کے متبادل نظام یعنی رینجرز کے تھانوں کے قیام کا مطالبہ صوبائی خود مختاری میں عمل دخل نہیں۔ کیونکہ رینجرز آرڈیننس میں یہ تحریر ہے کہ وفاقی حکومت رینجرز کو پولیس کی مدد اور معاونت کے لیے طلب کرسکتی ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے رینجرز کو مخاطب ہوکر کہا تھا کہ وہ مقدمات میں فریادی ہونے کو تو تیار نہیں، تحقیقات، پیروی، پراسیکیوشن اور گواہ پیش کرنے کی بات کیسے کرتے ہیں؟

عدالت نے رینجرز کی فرمائش پر سندھ حکومت سے موقف طلب کیا اور چیف سیکریٹری نے انتہائی تیکنیکی انداز میں اپنے تحریری جواب میں آگاہ کیا کہ رینجرز کو تھانوں کے قیام کے اجازت دینے میں قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔
بعض سرکاری وکلا کی جانب سے نجی ملاقاتوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ عدالت میں یہ کہا جاتا ہے کہ ناقص تفتیش کی وجہ سے لوگ رہا ہوجاتے ہیں لیکن اس بات کا دوسرا رخ یہ ہے کہ رینجرز کی جانب سے اٹھائے گئے کئی افراد کے ورثاء عدالت میں مسنگ پرسسنز کی درخواست دائر کردیتے ہیں جبکہ رینجرز انہیں مشورہ دیتی ہے کہ ان سے مقابلے میں گرفتاری ظاہر کردو ،اب اس صورتحال میں پولیس پر بے اعتمادی ہوتی ہے اور ماتحت عدالت مشتبہ شخص کو رلیف دے دیتی ہے۔

سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات میں شدت سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی نوے روز کی تحویل کے بعد آئی تھی اور رینجرز کی جانب سے ان پر پولیس اور رینجرز پر حملہ میں ملوث اور دیگر دہشت گرد کارروایوں میں ملوث ملزمان کا علاج کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور بعد میں انہیں الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا لیکن تفتیشی افسر نے ان الزامات کو غطل قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کو کلین چٹ دے دی، جس پر رینجرز کے وکیل نے عدالت میں اعتراض کیا بعد میں رینجرز کے پراسیکیوٹر کو ہی ہٹادیا گیا۔
ڈاکٹر عاصم حسین کے تجربے کی بنیاد پر اب رینجرز کی خواہش ہے کہ تھانے، تفتیش اور پراسیکیوٹر ان کے اپنے ہوں، یعنی یہ مطالبہ سندھ کی پولیس اور پراسیکیوشن نظام پر کھلا عدم اعتماد ہے۔

کراچی میں اس وقت امن کے قیام کا کریڈٹ وفاقی اور صوبائی حکومتیں الگ الگ لیتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جبکہ رینجرز کا یقینن اس میں کلیدی کردار ہے، لیکن سپریم کورٹ کی اس شہر میں بدامنی سے نجات کے لیے طویل اور اہم سماعتوں سے کسی کو انکار نہیں کرنا چاہیے جس نے اس بدامنی کے پس پردہ محرکات، کردار اور حکمت عملی کو واضح کردیا تھا یعنی ایک فریم ورک بناکر حکومت وقت کو دیا ۔تاہم پاکستان پیپلز پارٹی عملدرآمد سے کتراتی رہی اور موجودہ حکومت نے اس پر ایکشن کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ نے شہر میں ٹارگٹ کلنگز جو فرقہ ورانہ، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر جاری تھی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور شدت پسندی کے خلاف ایکشن لینے کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن کی وطن واپسی، پیٹرول سمیت دیگر اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام کے بھی احکامات جاری کیے تھے۔
سپریم کورٹ میں ہر سماعت کے موقعے پر پولیس کو اپنے ناقص ہی صحیح کارکردگی رپورٹ پیش کردیتی ہے لیکن کسٹم، کوسٹ گارڈ، ائنٹی نارکوٹکس جیسے محکموں کی جانب سے اس مقدمے کے فیصلے آنے کے بعد کوئی پیش رفت رپورٹ پیش نہیں کی گئی حالانکہ شہر میں جاری بدامنی میں قیام امن کے لیے عدالت نے ان ممحکموں کو بھی اپنے کردار کی یاد دہانی کرائی تھی۔

ملک کے معاشی دل میں ترقی کا پہیہ دوڑ رہا صنعت کارتسلیم کر رہے ہیں کہ ان کے کاروبار میں وسعت آئی ہے، فیشن شوز، سئنیما گھروں، میلوں کے علاوہ اب شہر کی فوڈ اسٹریٹ دوبارہ رات کو آباد ہو گئی ہیں۔ یعنی اآج امن کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر صنعت کار اور تاجر طبقہ مطمئن ہے اس قدر کہ آپریشن کی کامیابیوں کے حوالے سے ایک پروگرام میں تو انہوں نے مارشل لا کو کو بھی جائز قرار دے دیا تھا کیونکہ اس میں امن ہوتا ہے۔
تمام تر اقدامات کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائیم اور خاص طور پر موبائیل فون چھیننے کی وارداتوں میں کوئی کمی نہیں آئی، یعنی سپریم کورٹ میں آئی جی غلام حیدر جمالی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ ان وارداتوں میں صرف 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
شہر میں کاریں چھیننے کے واقعات میں کمی ہوئی ہے اس کی وجہ یقینن یہ ہے کہ جہاں ان کی ترسیل کی جاتی تھی وہاں ناکہ بندی کی گئی ہے اب جب مارکیٹ نہیں ہوگی تو یہ وارداتیں کم ہوں گی لیکن چوری کے موبائیلوں کی مارکیٹ موجود ہے اس لیے یہ چھنتے اور کہیں پر فروخت بھی ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے موبائیل سے محروم ہونےوالے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جو سڑکوں پر پیدل چلتے یا موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں اس کے علاوہ بسوں میں بھی یہ وارداتیں عام ہیں۔ ایسے بھی کئی گواہ موجود ہیں جنہوں نے موبائیل چھننے کے بعد قریبی رینجرز کی چوکی کو آگاہ کیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ملزمان کے پیچھے جانے سے معذرت کی کہ یہ ان کی ذمہ داری نہیں۔

شہر میں ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں یقینن کمی آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ماورائے عدالت ہلاکتیں رکارڈ بڑہ گئی ہیں پولیس اور دیگر ادارے ملزمان سے مبینہ مقابلے ظاہر کرکے ملزمان کی لاشیں میڈیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں، اسلحے کے بے جا استعمال یقینی طور پر رد عمل کو جنم دے گی اور جہاں اسلحے کا زیادہ استعمال ہوتا ہے وہاں یقینن پالیسیاں اور ادارے ناکام ہوچکے ہوتے ہیں۔
 Ausaf

http://www.dailyausaf.com/story/98275



No comments:

Post a Comment