یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک
سہیل سانگی
کراچی میں یہ محاورہ عام ہے کہ ایم کیو ایم میں کام کرنا شیر کی سواری ہے، جس پر کوئی ایک بار سوار ہوگیا تو اس سے اترنا ممکن نہیں۔ لیکن اس شیر کا سائیز کم کرنے میں و ہی قوتیں آج سب سے زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں جس نے اس کو شیر کے ساتھ کراچی کا بادشاہ بنادیا تھا۔
چند سال قبل تک ایم کیو ایم کے خلاف کسی کی سیاسی تقریر اور تحریر ممکن ہی نہ تھی یعنی چلتے چلتے کیبل ٹی وی چینل اندھیرے میں غائب ہوجاتے اور پیمرا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا لیکن گزشتہ دنوں جس طرح ایم کیو ایم کے منحرف رہنما اور سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے کمالات کا اظہار کیا اس سے قبل صرف ایم کیو ایم کو ہی یہ اعزاز حاصل تھا کہ اس کے سربراہ الطاف حسین کی تقریر بغیر کسی رخنے کے نشر کی جاتی تھی۔
ماضیایسا بھی ہوا کہ ایک ٹی وی چینلز پر جب الطاف حسین کی بات چیت درمیان میں روک کر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو لیا گیا تھا تو الطاف حسین کس قدر برہم ہوئے تھے، یہ سچ ہے کہ آج بھی کئی صحافتی اداروں میں ایم کیو ایم کا اثر رسوخ موجود ہے، یہ بات نہیں ہے کہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی حتیٰ کہ بعض فرقہ ورانہ جماعتیں اس سے منبرا ہیں وہ بھی اپنے نظریاتی ساتھی رکھتی ہیں فرق یہ ہے کہ ایم کیو ایم زیادہ موثر اور متحرک ہے۔
صورتحال اس قدر تبدیل ہوگئی ہے کہ کراچی آپریشن میں سرگرم ایک ادارے کے حکام شہر کے وسط میں گارمنٹس بازار کے درمیان واقع ایک ٹی وی چینل میں بیٹھ کر ایم کیو ایم کے بارے میں نیوز پیکیج بناتے ہیں اسکرپٹ اور فوٹج تک ان کی اپنی ہوتی ہے اور یہ جوں کا توں نشر بھی ہوتا ہے، بعض ملازمین نے اس بار ناراضگی کا بھی اظہار کیا لیکن ساتھ میں انہیں تجویز دی گئی کہ ان حکام کو کہا جائے کہ وہ دن دھاڑے آنے کے بجائے شب نو بجے کے آس پاس آیا کریں۔ قارین کو یاد ہوگا کے گزشتہ کچھ عرصے میں ایک چینل کا پر امن بائیکاٹ اور احتجاج بھی کیا جاچکا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز میں ایک منظم اور مربوط میڈیا سیل موجود ہے اس قدر کہ گزشتہ دنوں بین الاقوامی میڈیا سے رابطے کے لیے الگ سے لوگ رکھے اور دفتر بنایا گیا ہے، الطاف حسین کی رہائش گاہ کے اوپر کے حصے میں ٹی وی مانیٹرنگ روم واقع ہے جہاں سے کئی چینل کی نگرانی کی جاتی ہے، بریکنگ نیوز کے سنیپ لیکر واٹس اپ پر ان کے اپنے گروپ کو بھیجے جاتے ہیں جس سے مرکزی قیادت اور پارلیامینٹرین ملک میں ہر بڑی خبر اور پیش رفت سے آگاہ رہتے ہیں اس نظام سے دیگر جماعتیں اور ان کی قیادت محروم ہے۔
مانیٹرنگ سیل میں ہر مذاکرے اور خبر جس میں ایم کیو ایم کا ذکر ہے کی وقت کے ساتھ رکارڈنگ محفوظ رکھی جاتی ہے اور اس کو کیٹلاگ کی صورت میں محفوظ بنایا جاتا ہے۔ جس کے لیے کئی ٹریرا بائیٹس کی ہارڈ ڈسک بھی وہاں موجود ہیں۔ اس مانیٹرنگ سیل میں ایک آئی ٹی ایکسپرٹ سمیت کوئی آٹھ سے دس لوگ کام کرتے ہیں جن کی چوبیس گھنٹوں میں شفٹس تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پچھلے دنوں ایک میڈیا سیل بنایا ہے، جس میں بھی ٹی وی چینلز کی نگرانی کی جاتی ہے۔ جب کراچی میں پشتون مہاجر کشیدگی عروج پر تھی تو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر موجودہ سنیٹر شاہی سید کی رہائش گاہ کے گراو ¿نڈ فلور پر میڈیا سیل بناکر بعض ٹی وی چینلز کی نگرانی کی گئی۔
ابلاغ عامہ کا رائے عامہ ہموار کرنے میں کتنا اہم کردار ہے یقینن ایم کیو ایم سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا، اسی لیے قارئین نے دیکھا ہوگا کہ ایم کیو ایم کے اراکین ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنس میں کس قدر پر اعتماد اور پر طیش نظر آتے ہیں اور کئی تو صورتحال کی مناسبت سے شعر بھی داغ دیتے ہیں جن میں حیدر عباس رضوی، ڈاکٹر فاروق ستار اور فیصل سبزواری سر فہرست ہیں اس کی وجہ تربیت ہے جس کا الگ سے انتظام کیا جاتا ہے۔
مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ تک کے تیس پینتیس سالوں میں ایم کیو ایم نے ملک کے سب سے بڑے اخبار کے علاوہ کئی نشریاتی اداروں کا بائیکاٹ کیا اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کرنے میں کمال کامیابی حاصل کی ۔ذرہ یاد کیجئے کہ وزیر اعظم اور صدر کی خبروں سے پہلے الطاف حسین کے بیان کو آگاہ رکھا جاتا یعنی نیوز پروٹوکول ہی تبدیل ہوگئے۔ اس صورتحال میں تبدیلی 2011 میں اس وقت آئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے منحرف رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مستعفیٰ ہونے کے ساتھ وہ ہی الزامات عائد کیے جو چند روز قبل مطفیٰ کمال نے لگائے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد میڈیا نے کھل کر ایم کیو ایم کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا اور خاص طور پر اسلام آباد اور لاہور کے اینکر پرسن اور وہ چینلز جن کا مرکزی سیٹ اپ کراچی سے باہرہے انہوں نے ایک دوسری لائن اختیار کرلی۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور مصطفیٰ کمال میں اگر مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ قدر دونوں کے کردار میں مشھابت نظر آئیگی، مثال کے طور پر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور اپنے وزارت کے بادشاہ رہے، اسی طرح مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے قریب رہے جس کو وہ اپنا بیٹا قرار دیتے تھے، کراچی کی ناظم اعلیٰ کے دنوں میں وہ کسی اور کی نہیں سنتے تھے۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پیپلز پارٹی کے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پر ناراضگی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک پر ذاتی اور سیاسی تنقید کرتے رہے تھے اسی طرح مصطفیٰ کمال کی بھی ناراضگی 2008 سے شروع ہوتی ہے جب ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، اس کے ساتھ وہ بھی رحمان ملک کو لپیٹ میں لیکر آئے ہیں اور پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے بارے میں جب دبئی میں محمد انور اور طارق میر بریفنگ دینے آئے اور بتایا کہ انہوں نے اسکارٹ لینڈ یارڈ پولیس کو کیا کیا بتایا ہے تو اس وقت بھی رحمان ملک موجود تھے، مصطفیٰ کمال کے مطابق اس قدر کہ لندن میں آصف علی زرداری اور رحمان ملک کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے جو پریس رلیز جاری ہوتے تھے وہ بھی رحمان ملک جاری کرتے تھے۔
یہاں یہ بتانا ضروری نہیں کہ پاکستان کے کچھ ادارے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے اس بات پر خفا ہیں کہ انہوں نے کئی امریکی حکام کو سفارتی ویزے جاری کیے جو کہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے، اسی طرح جب ایم کیو ایم نے سندھ میں مخالفت کے باوجود بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کرنے کے لیے ووٹ دیا تو اس پر بھی مسلم لیگ ن اور دیگر ادارے ناخوش ہوئے۔ اس وقت جس طرح رضا ربانی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے افغانستان کے دورہ اور مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کی اجلاس نہ ہونے پر ریمارکس دیتے ہیں اس سے ان اداروں اور مسلم لیگ نے کے اپنے طور پر خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے الزامات کی بنیاد پر میڈیا کئی روز متحدہ قومی موومنٹ کو کٹھرے میں کھڑا کرکے سوال کرتا رہا لیکن اس سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو کوئی مقبولیت حاصل ہوئی اور نہ ہی ایم کیو ایم کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع ہوئی انہیں ہی الزامات کے ساتھ ملک میں جو سونامی سیاست نے جنم لیا اور تحریک انصاف آگے آئی اس نے اس صورتحال کا فائدہ لینے کی کوشش کی اور ساتھ میں میڈیا کی ہمدردی یا دوسری اختیار کرلی لیکن اس میں چمک کا عنصر زیادہ کہا جاتا ہے۔
2013 کے عام انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ نے کامیابی حاصل کرلی، اس قدر کہ سکھر سے بھی اس کو ایک نشست مل گئی، جس کو اب مصطفیٰ کمال تنظیمی ڈہانچے کا کمال قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہی ڈھانچہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کیوں مات کھا گیا؟ جب سکھر میں بلدیاتی انتخابات میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ خیال ہے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تصویر اور تقریر کی بنیاد پر الیکشن لڑتی ہے جس کو نشر کرنے پر لاہور ہائی کورٹ نے پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ دوسرے مرحلے میں متبادل انتظامات کے باعث اسی ایم کیو ایم نے کئی شہروں میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے مبینہ رازوں سے پردہ اٹھایا جس کے بعد ایک جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم بنائی گئی لیکن شاہد حامد کے ورثا نے کسی دباو ¿ کو قبول کیے بغیر معافی سے انکار کیا اس صورتحال میں ایک بار پھر میڈیا کئی روز کا راشن مل گیا لیکن ملزم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
کراچی میں رینجرز آپریشن نے جب کرپشن کا رخ کیا اور ڈاکٹر عاصم حسین کو حراست میں لیا گیا تو ایک بار پھر الزامات کی ایک نئی فہرست ساتھ آئی جس میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ساتھ ساتھ کھڑا کردیا گیا، ڈاکٹر عاصم کیس بھی ٹاک شوز کا مواد بننے کے علاوہ آگے نہیں بڑہ سکا ہے، حکام بھی جانتے ہیں کہ الزامات کو ثابت کرنا تو ممکن نہیں لیکن بدناموسی کی جاسکتی ہے۔
سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کوئی دھماکہ کریں گے یہ بات گزشتہ تین سالوں سے متوقع تھی یہ بھی کئی سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں بات عام تھی کہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد ایم کیو ایم کے پاس ایسی قیادت کا فقدان ہے جو لوگوں میں بھی مقبول ہو، اگر الطاف حسین کو سزا ہوجاتی ہے تو پاکستان میں کس کو آگے لایا جائے اس موقعے کی تاڑ میں کئی حلقے بیٹھے تھے اور لندن میں منی لانڈرنگ کیس میں پیش رفت ہونے کے ساتھ ان حلقوں نے بھی ڈوری ہلانے شروع کردیں۔
ماضی میں غریب اردو آبادی لائنز ایریا اور لانڈھی سے ایم کیو ایم کے خلاف بغاوت کی آواز آئی لیکن اس بار یہ آواز ڈفینس سے سنائی دی ہے، جہاں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آفاق احمد کی بھی رہائش گاہ ہے۔ نوے کی دہائی کی مشق، انداز اور الزامات اس عرصے میں اگر تبدیل ہوا ہے تو وہ ہی میڈیا کی جدت جو ایم کیو ایم سے بھی طاقتور ہاتھوں میں ہیں اور وہ اس کا درست استعمال بھی کرنا جانتے ہیں۔
http://www.dailyausaf.com/story/97711
http://www.dailyausaf.com/story/97711
No comments:
Post a Comment