کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی
مردم شماری ضروری سہی پر پینڈورا باکس ہے
پاکستان تنازعات اور تضادات کا ایک منبہ بن چکا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ جب نا انصافی، غیر مصفانہ تقسیم اور اقربا پروری عام ہو تو افراد ہوں یا ادارے، بے اعتمادی کی فضا تو بن ہی جاتی ہے، اس وقت ملک میں مردم شماری بے اعتمادی کا شکار ہے۔
پاکستان میں ہر دس سال یعنی ایک دہائی کے بعد مردم شماری ہونی ہے، یہاں 1951 میں پہلی بار مردم شماری کی گئی تھی، اس کے بعد 1961 ، 1972 میں ترتیب وار مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، ویسے یہ 1971 میں ہونا تھی لیکن بنگلادیش کی علیحدگی کی وجہ سے اس میں ایک سال کی تاخیر ہوئی، بعد میں 1981 میں مردم شماری کی گئی اس کے یہ آئینی ذمہ داری دس سال کے بجائے سترہ سالوں کے بعد یعنی 1998 میں پوری کی گئی۔چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھا لیکن سیاسی وجوہات کی بنیاد پر نہیں کرائی جاسکی ۔ اور اب ایک بار پھر مردم شماری کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اعداد و شمار کی عدم دستیابی میں گزشتہ سترے برسوں سے ملکی آبادی کے بارے میں صرف اندازے لگائے جاتے رہے ۔ حالانکہ حقیقی اعداد و شمار کے بغیر ملک کا سیاسی اور معاشی مربوط اور مضبوط نظام صرف تخمینوں کی بنیادوں پر نہیں بنائے نہیں جاسکتے ہیں۔
حکومت کو کچھ اکابرین نے یہ مشورہ بھی دے رکھا ہے کہ مردم شماری کے جھنجھٹ میں پڑنے کے بجائے رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا کا رکارڈ متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ نادرا کے پاس ان لوگوں کو رکارڈ موجود ہے جن کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں جبکہ ملک کی ایک بڑی آبادی کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں یا پرانے کارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کارڈ میں تبدیل نہیں کیا اس لیے حکومت کے لیے یہ تدبیر بہتر نہیں ہوسکتی۔
ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ نادرا اپنا ڈیٹا کسی نجی ادارے یا محقق سے شیئر نہیں کرتا جبکہ مردم شماری ایک کھلی کتاب ہوتی ہے جو کوئی محقق یا ادارے چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی استعمال کرسکتا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی برابر نہیں ہے، جبکہ صوبوں کے نمائندہ وفاقی حکومت نے اپنے طور پر تعینات کیے ہیں جن کو صوبائی حکومتیں خاص طور پر سندھ حکومت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
چیف سینس کمشنر آصف باجوہ کہتے ہیں کہ مردم شماری مرحلہ وار کے بجائے ایک ہی وقت ہوگی اور اس مشق کو ایک سے ڈیرہ ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ سندھ حکومت اس کا دورانیہ کم سے کم تین ماہ چاہتی ہے اس کا موقف ہے کہ یہ علاقہ دریا کے کچے ایریا، پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں منقسم ہے جہاں عملے کو رسائی کے لیے وقت درکار ہے اگر دوارانیہ کم ہوگا تو یہ مشق مکمل ہونا ممکن نہیں ہوگا۔
صوبوں اور وفاق کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے آئین کے تحت مشترکہ مفادات کی کونسل کے نام سے ادارے موجود ہے لیکن یہ ادارہ سب سے زیادہ کمزور اور غیر فعال ہے، صوبہ سندھ کا مطالبہ تھا کہ مردم شماری کے معاملے کو اس ادارے میں زیر بحث لایا جائے لیکن اطلاعات کے مطابق اس کو ایجنڈامیں رکھا ہی نہیں گیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی کابینہ کے پاس صرف چھ محکمے ہیں باقی یا تو صوبوں کو دے دیئے گئے ہیں یا پھر مشترکہ مفادات کی کونسل کو چلانے ہیں جس کے لئے اس کونسل کی مستقل سیکریٹریٹ کا قیام لازمی ہے۔
وفاقی حکومت مردم شماری میں بھی فوج کی مدد چاہتی ہے یقینن یہ بات درست ہے کہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر معمولی ہے، محکمہ شماریات نے مردم شماری کے لیے ساڑہ چودہ ارب رپے طلب کیے ہیں جن کا ابھی تک اجارا نہیں کیا گیا، اس میں سے آدھی رقم کا تقاضا پاکستان فوج نے کیا ہے جس کے بدلے میں سیکیورٹی فراہم کی جائیگی۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مرد مشماری ایک سیاسی اقدام ہے جس پر مختلف قومیتیں اپنے بارہا اعتراضات اور خدشات کا اظہار کرتی ائی ہیں، اس متنازعہ معاملے میں فوج کو دھیکلنا کتنا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
صوبہ سندھ کی سندھی آبادی کو یہ خدشات ہیں کہ غیر مقامی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر کراچی میں ان کا اثر رسوخ کم ہوگیا ہے، سندھ میں ملازمتیں اور جامعات میں داخلے دیہی اور شہری کوٹہ کی بنیاد پر دی جاتی ہیں اس لیے انہیں یہ خوف ہے کہ اس سے یہ حصہ متاثر ہوگا۔
صوبہ بلوچستان میں پشتون اور بلوچ تنازعہ موجود ہے۔ وہاں بلوچوں کو شکوہ ہے کہ پشتون آبادی تیزی کے ساتھ بڑہی ہے اور ان کا سیاسی اور انتظامی گرفت کمزور ہوئی ہے بلوچ قومپرست شکوہ کرتے رہے ہیں بڑے پیمانے پر افغان شہریوں کو شناختی کارڈ مل چکے ہیں جس سے پشتون آبادی بڑہ رہی ہے اور بعض پشتون رہنما ان کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں جس سے بلوچ دن بدن اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
اسی طرح پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی قومیتوں اور خیر پختون خواہ میں پشتون اور ہزارہ تنازعہ موجود ہے ہر قومیت مردم شماری میں اپنی اکثریتی آبادی دکھانے کی تگ و دو میں ہوگی۔
1998 کی بنیاد پر سیاسی اور انتظامی حد بندیاں کی گئی ہیں جبکہ مردم شماری میں ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جائے تاکہ اگر کہیں کوئی کمی بیشی رہے جائِے تو اسے ٹھیک کیا جاسکے، تصاویر اور جی پی ایس کی بھی مدد لی جائے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے اپوزیشن کا کردار ادا کر ا رہی ہے جس وجہ سے وفاق اور صوبائی حکومت میں کشیدگی بھی نظر آتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اس طرح سندھ میں عوام کو یہ تاثر دینے یں کامیاب رہتی ہے کہ وہ ان کے آئینی قانونی، مالی وسائل کے لیے وفاق سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس تسلسل میں یہاں مردم شماری کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس کا بھی انعقاد ہوچکا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ آبادی میں توازن نہ بگڑے جبکہ ان کا یہ بھی مشورہ تھا کہ غیر مقامی آبادی کے لیے ایک الگ سے خانہ رکھا جائے۔
sohail.sangi@gmail.com
No comments:
Post a Comment