Sunday, April 3, 2016

ٹنڈو محمد خان میںزہریلی شراب سے ہلاکتیں


 کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

سندھ کے شہر ٹنڈو محمد خان میں زہریلی شراب میں ہلاکتوں نے سندھ حکومت کو گہری نیند سے جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے، ایک بار پھر ثابت ہوا کہ اس صوبے میں قانون کی حکمرانی اور نظام کا فقدان ہے، کیونکہ شکارپور، جیکب آباد بم دھماکوں ، تھر کی قحط سالی اور کراچی میں گرمی میں پندرہ سو سے زائد افراد کی ہلاکت نے اس حکومت کی بدانتظامی کی قلعی کھول دی تھی۔

ہندو برداری کے تہوار ہولی سے دو روز قبل ٹنڈو محمد خان میں کچی یا زہریلی شراب کے استعمال سے 45 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین خواتین شامل تھیں اور ایک کی شادی کو ابھی ہفتہ بھی نہیں گذرا تھا۔ڈیڑھ درجن سے زائد متاثرین نابینا ہوچکے ہیں۔ 
 اٹھارویں صدی میں تالپور خاندان نے یہ شہر بسایا تھا جس کے ایک طرف دریائے سندھ ہے تو دوسری طرف پھلیلی کینال۔ ٹھنڈے مزاج کے باسیوں کا یہ شہر سندھ کی روایتی اجرک سازی کے لئے بھی مشہور ہے۔ کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ ستر اور اسی کے عشرے کے مشہور مزدور رہنما شمیم واسطی، علی اوسط جعفری، کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کے بانی لیاقت عزیز اور سندھ کے مقبول شاعر پروانو بھٹی کا علق بھی ٹنڈو محمد خان سے تھے ۔گنے کی کاشت کے لئے مشہور اور شگر ملوں کے اس نئے ضلع میں دو ماہ قبل پولیس نے آپریشن کرکے ایک ہزار سے زائد لٹر کچی شراب برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ سلسلہ دوبارہ کیسے شروع ہوگیا جو اتنی انسانی جانیں چلی گئیں؟ یقینن یہ کام پولیس کی معاونت یا ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ۔
ٹنڈو محمد خان واقعے کے تین روز بعدضلع نوشہرو فیروز کے شہر پڈ عیدن میں ریلوے پولیس کا ایک اہلکار فوت ہوگیا۔ خود پولیس نے بتایا ہے کہ پٹے بھائی کی ہلاکت زہریلی شراب پینے سے ہوئی ہے۔

ٹنڈو محمد خان شہر اکیلا نہیں پوری سندھ میں کچی شراب کی فروخت عروج پر ہے، 2013 میں کراچی میں پندرہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ اس سے قبل میرپورخاص اور حیدرآباد میں بھی یہ واقعات پیش آچکے ہیں خاص طور پر حیدرآباد میں تو اسلم تیلی مشہور کردار رہا ہے جو بعد میں دوران قید ہی فوت ہوگیا ۔ تقریبا دس سال قبل اس کی کشیدہ زہریلی شراب کے باعث سو کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن اس کے باوجود بھی معاملات جوں کے توں جاری ہیں۔
کچی شراب کی تیاری میں اسپرٹ یا ٹنکچر کے علاوہ خواب آوور گولیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ڈرموں میں کشید کی جانے والی یہ شراب بغیری لیبارٹری ٹیسٹ کے تیار اور فروخت ہوتی ہے۔ کبھی کبھار فارمولا آگے پیچھے ہوجائے تو آنکھوں کا نور ہی نہیں زندگی کا چراغ بھی گل ہوجاتا ہے۔
کراچی میں دو سال قبل پندرہ افراد کی ہلاکت کے بعد اسپرٹ کے لائسنس منسوخ کردیئے گئے تھے ۔صوبائی وزیر ایکسائیز ایسرانی کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ہسپتال اور بعض صنعتیں بھی متاثر ہو رہی تھیںلہٰذا انہوں نے ان کے دو سو لائسنس بحال کردیئے جو ایک بڑے عرصے سے رجسٹرڈ ہیں۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں انہوں نے خود انکشاف کیا کہ ایک شگر ملز سے بھی اسپرٹ کی فروخت کی اطلاعات ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

صوبائی وزیر گیانچند ایسرانی نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ ایک سال میں 121 مقدمات درج ہوئے اور ہزاروں لٹر شراب ضبط کی گئی ، تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ ان کے حلقے کی گلی گلی میں شراب فروخت ہو رہی۔

اسی سندھ اسمبلی نے شیشے، مین پڑی اور گٹکے پر بھی پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ سے نوجوان منہ، گلے، دانتوں کے کینسر اور دیگر امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔، لیکن جب معاملہ قانون پر عملدرآمد کا آتا ہے تو ہر کوئی ادھر اودھر دیکھنے لگتا ہے اور جب تک یہ ڈزاسٹر کی صورت اختیار نہ کرلے اقدامات کے بارے میں کوئی سوچتا بھی نہیں۔
کچی شراب برآمد ہونے کی صورت میں حدود آرڈیننس کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت مقدمات درج کیے جاتے ہیں جو قابل ضمانت جرم ہے، اس میں بھی وہ گرفتار ہوتے ہیں جن سے شراب بر آمد ہوتی ہے ،اکثر بٹھی مالکان گرفتار نہیں ہوتے۔ ٹنڈو محمد خان واقعے میں بھی ایسا ہی ہوا ، ویسے بھی پولیس مینوفیکچرز پر بھی و ہی الزام عائد کرتی ہے جو کسی شراب نوش پر کیا جاتا ہے اس سے مینوفیکچر کو رلیف مل جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس چرس، آفیم یا ہیروئین کا نارکوٹکس کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے۔

سندھ میں بغیر لائسنس کے شراب کشید کرنے پر پابندی ہے اور اس قانون پر عملدرآمد ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن محکمہ کراتا ہے، اس محکمے کی وزارت اور ملازمت دونوں سونے کی چڑیا سمجھے جاتے ہیں، اس محکمے میں جو بھرتیاں ہوتی ہیں وہ بھی زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں کیونکہ اس محکمے میں کمائی زیادہ ہے۔ فرض کرلیں گاڑیوں کی رجسٹریشن یا ٹیکسیشن میں تو کمائی نہیں ہوگی، آمدنی تو منشیات والے حصے سے ہی ملتی ہے اس لیے چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے اور اس فعل کی ایک قیمت ہے جو منشیات فروش ادا کرتے ہیں۔

اس محکمے میں چند ماہ قبل ہی سیاسی بنیادوں پر کی گئی تقرریاں ختم کی گئی ہیں۔ پہلے ڈاکٹر، محکمہ تعلیم کے استاد اور دیگر اس محکمے کے ٰضلعی منصبوں پر فائز تھے۔ ظاہر ہے کہ انہیں نہ تو اس کی تربیت تھی اور نہ ہی منشیات کی روک تھام میں ان کی دلچسپی۔ یہ تمام لوگ موجود حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کے انتہائی قریبی رشتے دار تھے۔ عدالت کے حکم پر انہیں اپنے محکموں پر واپس کیا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر ایکسائیز ایسرانی اس کو عدالت کے حکم کے علاوہ اپنا کارنامہ بھی قرار دیتے ہیں۔

محکمہ ایکسائیز نے رواں سال بھی ٹیکس میں رکارڈ وصولی کی ہے،۔ لیکن کم از کم منشیات کی روک تھام اب پولیس کے حوالے ہونی چاہیے یا اینٹی نارکوٹکس فورس تشکیل دی جائے کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد کئی اختیارات اب صوبوں کے پاس ہیں۔لہٰذا اس حوالے سے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔ 
کچی شراب میں ہلاکتوں کے واقعات اکثر تہواروں کے موقعے پر ہی پیش آتے ہیں پھر وہ تہوار ہندوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے کیوں نہ ہوں ۔ 2004 میں موجودہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ جب ایس ایس پی حیدرآباد تھے، اس وقت بھی وہاں زہریلی شراب میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ حقیقت ہے اور یہاں کئی مسلمان بھی شراب پیتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ لائسنس کی شرط ختم کی جائے تاکہ پیوری فائیڈ شراب انہیں حاصل ہو اور انسانی جانوں کا ضایع نہ ہو۔
صوبائی وزیر ایکسائیز ایسرانی کہتے ہیں لوگ انہیں شکایت کریں وہ ان کا ازالہ کریں گے۔ اب بتائیں جو منشیات فروش ہے وہ کوئی شریف شہری تو نہیں بلکہ اپنے علاقے کا غنڈہ بدمعاش ہوتا ہے جب پولیس شہریوں کے بجائے ان کے ساتھ زیادہ نظر آئے تو کون شہری اپنی عزت اورزندگی خطرہ میں ڈالے گا۔

صوبائی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لیے فی کس دو دو لاکھ رپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ شراب پیکر ہلاک ہونے والوں کو معاوضہ دینے کے مخالف ہیں لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ رقم دے رہے ہیں، یہ کہہ کر وہ ان تمام تر ذمہ داریوں اور مجرمانہ غفلت سے آزاد ہوگئے کہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور وہ دیئت ادا کر رہی ہے۔



No comments:

Post a Comment