یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔۔ سہیل سانگی
کراچی میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس پر حملے اور سات اہلکاروں کے ہلاکت کے واقعے بعد ایک بار پھر شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن زیر بحث آیا ہے، کیونکہ ضرب عضب سے بھی پہلے ملک کے اس صنعتی حب میں آپریشن جاری تھا۔
شہر میں اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری اور کاروں کے چھیننے کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے لیکن پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سے قبل فرقہ ورانہ بنیادوں پر تین افراد کے قتل کی واردات پیش آچکی ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد ختم نہیں ہوئے بلکہ موقع کے منتظر ہیں جب بھی اور جہاں بھی انہیں اپنے قوت دکھانی ہوتی ہے، وہ بھرپور وار کرتے ہیں۔
جب سے اس شہر میں آپریشن شروع ہوا ہے پولیس مسلسل نشانے پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے اندر ہزار کے قریب جوان اور افسران نشانہ بن چکے ہیں اور ان میں زیادہ تر واقعات اسی اورنگی ٹاو ¿ن کے علاقے میں پیش آ رہے ہیں۔جہاں گزشتہ دونوں پولیس کی حفاظت پر تعینات اہلکار شکار ہوئے۔
کراچی میں ایک نیا رجحان بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے وہ ہے ماورارئے عدالت ہلاکتوں کا ۔ایس ایس پی راو ¿ انور سخت سیکیورٹی میں نکلتے ہیں اور واپسی میں تین سے چار لاشیں ہوتی ہیں جنہیں شدت پسند قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ تین چار سے جاری ہے گزشتہ دنوں ملیر میں بھی اسی طرح تین افراد کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا حد تو یہ ہے کہ انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ ان تمام حقائق کا الیکٹرانک میڈیا چشم دید گواہ ہے لیکن ناجانے کن اسباب کی وجہ سے وہ خاموش رہتا ہے۔
صورتحال یہاں تک جاپہنچی ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کے رہنما کہہ چکے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگز میں جتنی کمی ہوئی ہے ماورائے عدالت ہلاکتیں اس سے زیادہ بڑہ گئی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ جس کے پاس اسلحہ اور اختیار ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے نتیجے میں عسکریت پسندی بڑہتی ہے۔
پولیس کے تحقیقاتی شعبے سے منسلک ایک ایس ایس پی کا تو یہ ماننا ہے کہ راو ¿ انوار کے ان مقابلوں کی وجہ سے پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے ثبوت کے لیے وہ ان کالعدم تنظیموں کے حوالے دیتے ہیں جو کہتی رہی ہیں کہ انہوں نے بدلہ لیا۔
کراچی پولیس پر سیاسی جماعتوں کا اثر رسوخ ہونے کے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک سیاسی جماعت کے ٹارگٹ کلر نے یہ بھی اعتراف کرلیا کہ انہیں سیاسی کارکنوں کی جے آئی ٹی رپورٹس ایس پی سی آئی اے علی رضا دیا کرتے تھے۔ اس طرح لیاری سے گرفتار ی انسپیکٹر نے لیاری گینگ وار سے اپنے تعلقات کا اظہار کیا ہے جو اس وقت زیر حراست ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے نشانے پر بھی پولیس اور ان کی اتحاد میں پولیس ہے۔
کراچی کے علاقے حیدرآباد، سکھر اور گھوٹکی تک پولیس نے یہ نیا اسٹائل اپنا لیا ہے۔جس کو اب ”فل فرائی“ اور” ہاف فرائی“ کا نام دیا گیا ہے، اس نام کے موجد ایس ایس پی حیدرآباد عرفان بلوچ ہیں جنہوں نے دو سال قبل حیدرآباد آمد کے ساتھ یہ سلسلہ شروع کیا ۔چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں مشتبہ ملزمان ہلاک ہونے لگے اور جو موبائیل چوری اور چھینا جھپٹی میں ملوث تھے انہوں ٹانگوں میں گولیاں ماری جانے لگیں۔عرفان بلوچ اس سے قبل اورنگی ٹاو ¿ن میں تعینات تھے جہاں سے وہ اسٹائل اپنے ساتھ لیکر آئے۔ اس وقت حیدرآباد میں امن امان کافی حد تک قابو میں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتنا دیرپا ہوگا؟
پنجاب میں جب چھوٹو گروپ کے خلاف آپریشن کے دوران یہ امید تھی کہ سندھ میں بھی پولیس کچھ متحرک ہوگی کیونکہ یہاں بھی اغوا انڈسٹری عروج پر ہے تاہم کوئی چھوٹو گینگ نہیں ہے جس کے لئے فوج طلب کرنی پڑے۔
جیکب آباد کے علاقے ٹھل سے تقریبا نو سال قبل ایک لڑکی فضیلہ سرکی کو اغوا کیا گیا عدالت کے احکامات اور صوبائی اسمبلی میں دعوو ¿ں کے باوجود بھی اس کی بازیابی نہیں ہوسکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کو پولیس کسی حساب میں نہیں لاتی، لیکن آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کی بے بسی سمجھ میں نہیں آتی۔
اے ڈی خواجہ نے چارج لینے کے فورا بعد فضیلہ کے والد سے رابطہ کر کے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی بچی کو جلد بازیاب کرالیا جائے گا۔
فضیلہ کی بازیابی کے لئے ناکام آپریشن کے بعد اس فرض شناس افسر سے پوچھا جاسکتا ہے کہ قانون تو اندھا ہوتا ہے لیکن یہاں قانون سماعت اور بصارت بھی کھو بیٹھا ہے کہ اسے کسی مقدمے میں نامزد ملزمان بھی نظر نہیں آتے؟ شاید فضیلہ کے اغوا کاروں کو سلیمانی ٹوپیاں پہنی ہوئی ہیں کہ وہ پولیس کو نظر نہیں آتے۔
فضیلہ سرکی کے اغوا کی طرح نوشہرو فیروز کے رہائشی نوجوان عمران جوکھیو بھی لاپتہ ہے، جس کی بیوہ ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے کبھی پریس کلب پر بھوک ہڑتال تو کبھی پولیس دفاتر کے چکر لگاتی ہے۔ عمران نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن تھا اور نہ ہی کسی شدت پسند تنظیم سے اس کا کوئی تعلق ۔ وہ گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا جس کی تاحال لاش بھی نہیں ملی کہ دکھیاری ماں کو کچھ چین آجائے۔ بس پولیس کی اپنی روایتی تفتیش جاری ہے۔پولیس سے عوام پہلے ہی ناامید تھے لیکن اب لوگ فرض شناس افسر اے ڈی خواجہ سے بھی مایوس ہو رہے ہیں۔
پولیس اور دیگر محکموں کی بدترین کارکردگی پر عدلیہ کا رویہ بھی سندھ حکومت کے بارے میں سخت ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب سپریم کورٹ میں یہ ریمارکس سننے کو ملے کہ جب تک مسٹر شاہ ہیں تب تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اسی سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیئے تھے کہ سندھ کے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور حکومت اربوں روپے کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر دے رہی ہے۔
http://www.dailyausaf.com/story/105074


No comments:
Post a Comment