Sunday, April 24, 2016

پیپپلزپارٹی اور پاناما لیکس


پیپپلزپارٹی اور پاناما لیکس 

کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہیں گے اور نہ ہی ایسی کسی تحریک کا حصہ بنے گی، یہ وہ پیپلز پارٹی ہے جس کی قیادت کے خلاف مسلم لیگ ن نوے کی دہائی میں آف شور کمپنیوں کا اسکینڈل سامنے لیکر آئی تھی۔

1994 میں جب نواز شریف ایوان میں پیپلز پارٹی کی قیادت پر آف شور کمپنیاں بنانے پر شور کر رہے تھے دوسری طرف وہ خود بھی ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے تھے پاناما اسکینڈل اس بات کا ثبوت کرتا ہے، اب نواز شریف کہتے ہیں کہ یہ کمپنیاں ان کے بیٹوں کی ہیں تو کیا اس وقت ان کے صاحبزادے اس قابل تھے کہ اتنا بڑا کاروبار کرسکیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ میاں نواز شریف کا بیرون ملک کاروبار تو ان کے سعودی عرب جلاوطنی کے بعد سامنے آیا ہے۔ پھر یہ کونسا کاروبار ہے جس کے ذریعے اربوں رپے کمائے گئے؟جس ملک میں بظاہر یہ کوششیں کی جاتی ہوں کہ یہ یہاں بیرونی سرمایہ کاری ہو وہاں سے سرمائیدار جب بیرون ملک سرمایہ کاری تو ترجیح دیں گے تو پھر کوئی غیر ملکی اپنا پیسہ کیوں لگائے گا۔

موجودہ صورتحال میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور شہباز شریف کا کردار انتہائی محتاط نظر آتا ہے۔ نواز اور شہباز میں اختلافات کی بازگشت کوئی نئی بات نہیں جب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شریف نے سیاست میں تیزی کے ساتھ قدم اٹھانے شروع کیے تو کچھ اسپیڈ بریکر لگائے گئے اور اس کے بعد مریم نواز کی انٹری ہوئی جو اب امریکہ کی یاترا تک پہنچ چکی ہے، اس کا مطلب کھلا شہباز شریف سے اختلاف کا مظہر تھا۔

چوہدری نثار کے اقدامات اور میاں نواز شریف کا موقف بھی متضاد نظر آئے، ممتاز قادری کے معاملے پر اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے ساتھ جو معاملات طئے ہوئے اس سے یوں محسوس ہوا جیسے دونوں میں مشاورت کی کمی تھی۔

پانامہ کے معاملے پر چوہدری نثار نے عمران خان کو دھرنے کی اجازت دے دی ہے اس کے علاوہ ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کی پیشکش کی تھی لیکن عمران خان کا کہنا ہے کہ شعیب سڈل کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے تاہم اس پر چوہدری نثار راضی نہیں کیونکہ کسی رٹائرڈ افسر کے ذریعے وہ تحقیقات کرانے کے مجاز نہیں۔

پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے بجائے وزیر اعظم نواز شریف نے ٹیلیویڑن سے قوم سے خطاب کرنے کو ترجیح اور جڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا اعلان کیا تھا باوجود اس کے اس ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ کمیشن کا کام رکارڈ میں مزید دستاویز کے اضافے کے علاوہ کبھی کچھ نہیں رہا، حمود الرحمان کمیشن سے لاہور ماڈل ٹاو ¿ن کمیشن کی کئی مثالیں موجود ہیں ان کے ذریعے صرف رلیف لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

حکومت کی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کے قیام پر کوئی بھی اپوزیشن راضی نہیں ہے، جب جسٹس رٹائرڈ سرمد جلال عثمانی کا نام سامنے آیا تو پیپلز پارٹی نے یہ کہہ کر مخالفت کردی کہ ان کی بیگم کہہ چکی ہیں کہ جسٹس سرمد جلال رٹائرمنٹ کے بعد مسلم لیگ ن میں شامل ہوں گے، لہذا ان کی مسلم لیگ نون کے لیے ہمدردیاں موجود ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے جسٹس سرمد جلال کی بیگم نے 2007 میں یہ بیان دیا تھا۔

ماضی کے برعکس اس وقت سیاست بلوغت کے دور میں داخل ہوچکی ہے یا موقعہ پرستی کا دور دورہ ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو ذہنوں کے خلیوں میں دوڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف جو کرپشن اور بیڈ گورننس کے دو نقاطی ایجنڈہ پر سرگرم ہے وہ اس سنہری موقع کو گنوانے کو تیار نہیں لیکن ماضی کے برعکس اس بار اپوزیشن جماعتیں ایک صفحے پر نظر نہیں آتیں اور تحریک انصاف کی شکل میں تو یہ ممکن ہی نظر نہیں آتا، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علما اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی اختلافات اور تنقد کے باوجود مسلم لیگ ن کے ساتھ کندھا کندھے میں ملاکر کھڑی ہوئی ہیں۔

تحریک انصاف کے بارے میں جو قیاس آرائیاں ہیں کہ اگلی باری اس کی ہوگی اور ان پر متقدر حلقوں کی بھی چھتر چھایا موجود ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ باقی جماعتوں کو حصہ نہیں ملے گا اس صورتحال میں ان کے لیے یہ ہی آپشن بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی حمایت جاری رکھیں اس کو جمہوریت کی مضبوطی اور تسلسل کا نام ہی کیوں نہ دیا جائے۔

صورتحال یوں بھی دلچسپ ہے کہ ماضی میں حکومت مخالفت تحریکیں پنجاب اور سندھ سے اٹھتی رہی ہیں لیکن دونوں صوبوں کی نمائندہ جماعتوں کی مفاہمت نے اس روایت کو تبدیل کردیا ہے، جب میاں نواز شریف لندن جا رہے تھے تو یہ خبریں سامنے آئیں کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے لیکن پچھلے دنوں بلاول بھٹو کے ایک سطر کی ٹوئیٹ نے واضح کیا کہ آصف زرداری سے نواز شریف سے ملاقات نہیں کریں گے۔

جب ایوان میں موجود جماعتیں” صورتحال دیکھو“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں تو اس صورتحال میں مقتدر حلقوں کو ان جماعتوں کی ضرورت پیش آئیگی جو تھوڑی بہت اسٹریٹ پاور رکھتی ہیں۔
اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو نے دانشوروں ،ادیبوں، صحافیوں اور مزدور رہنماو ¿ں سے مدد کی درخواست کی ہے تاکہ وہ اپنا پارٹی پروگرام ان تجاویز کی روشنی میں تشکیل دے سکیں، یقینن یہ ایک مثبت کوشش ہے اس سے قبل وہ جنوبی پنجاب میں جلسہ عام کرچکے ہیں اب ان قدم آزاد کشمیر کی طرف ہیں وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہے ہیں۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا اثر رسوخ کا حتمی فیصلہ کا اختیار کیا ختم ہوچکا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری سے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی کی پگڑی اب بلاول بھٹو کے سر پر آئی ہی تمام قیادت نے اپنے ساتھی اور اتحادی اپنی مرضی سے مقرر کیے تھے کیا بلاول بھٹو کو یہ اختیار حاصل ہوچکا ہے۔

 پیپلز پارٹی نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ بھی تحلیل کردیا ہے اب انتخابات ہوں گے جس کے لیے تنظیم سازی بھی کی جارہی ہے، لیکن اس وقت کی اطلاعات کے مطابق و ہی ان عہدوں کے امیدوار ہیں جو برسوں سے ان عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں یعنی اگر پروگرام نیا بن بھی جائے تو یونٹ سے لیکر قومی اسمبلی تک اس کی پیروی کرنے والے وہ ہی پرانے چہرے ہوں گے جو سر تک کرپشن کے الزام میں پھنسے ہوئے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے جو چار دھایاں قبل روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا چار بار حکومت میں آنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں رہیں، مڈل کلاس قیادت کہاں سے آئے جو کرپشن سے بیزار ہے ہوسکتا ہے کہ کسی کونے میں اروند کیجروال جیسے لوگ بیٹھے ہوں لیکن اس سیاسی گٹر کو صاف کرنے کی کوئی ہمت نہیں کر رہا۔

Daily Ausaf .. Column Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment