Sunday, April 17, 2016

گرینڈ الائنس : یہ کوئی متبادل نہیں


یہ کوئی متبادل نہیں


کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

 پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے جیسے کراچی سے قدم باہر رکھے۔ پیپلزپارٹی کے خلاف قائم روایتی سیاستدانوں کا اتحاد سندھ ڈیموکریٹک گرینڈالائنس بھی سرگرم ہو گیا۔ پہلے اسکی سرگرمیاں صوبائی داراالحکومت کراچی تک محدود ہوتی تھیں۔ اپنے نام سے یہ جمہوری اتحاد ہے لیکن اس میں
شامل شخصیات ہمیشہ آمروں کی اتحادی اور قریب رہی ہیں۔

اس مرتبہ سندھ گرینڈ الائنس نے اپنی عوامی مہم کا آغاز عمرکوٹ سے کیا ہے جہاں گزشتہ ہفتے ہندو برداری کے تہوار ہولی کے موقعے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جلسے عام کو خطاب کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ بھارت میں مسلمان صدر ہوسکتا ہے تو پاکستان میں اقلیتی آبادی کا کوئی فرد بھی کسی اہم منصب پر فائز ہوسکتا ہے۔ شاید وہ تاریخ سے آگاہ نہیںکہ اس کی وجہ بھی ان کی ہی جماعت اور ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے 1973 کے آئین میں یہ ممکن بنایا کہ آیندہ کوئی اقلیتی صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ خیر اگر انہیں اس غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔

بھان متی کے کنبے کی مانند گرینڈ الائنس میں پانچ سابق وزیر اعلیٰ مظفر حسین شاہ، ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی، غوث علی شاہ اور ممتاز بھٹو شامل ہیں ان سب کا دور حکومت کسی نہ کسی وجہ سے متنازعہ رہا ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ کی زیر قیادت اس الائنس میں قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو بھی شامل ہیں ان کا ہدف کرپشن اور بیڈ گورننس ہیں۔

اس اتحاد کا اسٹرینگ ایک بار پھر مسلم لیگ فنکشنل کے ہاتھ میں ہے اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات سے قبل بھی ان جماعتوں کا تلخ تجربہ رہا ہے، جب یہ اتحاد مشترکہ امیدواروں لانے میں ناکام رہا ۔ہر جماعت نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے، اس وقت اس اتحاد کے پاس سندھ کا بلدیاتی نظام مخالف ایجنڈہ تھا جس کو دوہرا نظام قرار دیا گیا تھا۔ اس بلدیاتی نظام کو متحدہ قومی موومنٹ کو خوش رکھنے کے لیے نافذ کیا جارہا تھا بعد میں عدالت کے حکم پر اس قانون میںترمیم کی گئی۔

تھر پارکر اور عمرکوٹ میں ہندو برداری کی تقریبا نصف آبادی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے بعض بیانات اور رویے کی وجہ سے ہندو برادری دل شکستہ ہوتی رہی ہے۔ جبکہ پیر پاگارہ کی حر جماعت سے تعلق رکھنے والے یہاں بڑے بڑے زمیندار ہیں اور ان کے ہی مبینہ نجی کیمپوں سے کسان رہائی پاتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے مسلم لیگ فنکشنل کے لیے بھی عام ہاریوں کے پاس نرم گوشہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کو کچھ قدر ہندو برادری کی حمایت حاصل ہے اس کی ایک وجہ رکن قومی اسمبلی لال مالھی ہیں جو تحریک انصاف کی جانب سے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے اور ان کی برداری بڑی تعداد میں عمرکوٹ میں آباد ہے۔

مسلم لیگ فنکشنل دیہی سندھ کی ویسے تو بڑی جماعت ہے لیکن عملا تنظیمی طور پر یہ سیاسی جماعت کے طور پر کم بلکہ روحانی جماعت کے طور پر زیاددہ منظم ہے۔ اس کے سیاسی فیصلوں پر بھی حر جماعت اثر انداز ہوتی ہے۔جہاں پیر کے سامنے بولنا گستاخی سمجھا جاتا ہو، وہاں اختلاف رائے کہاں رکھی جاسکتی ہے، جو سیاست کا حسن ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے مسلم لیگ فنکشنل کبھی سیاسی جماعت کے طور پر نہیں ابھر نہ سکی۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد سندھی عوام کا مزاج اینٹی اسٹبلشمنٹ رہا ہے جبکہ سابق پیر پاگارہ کھلے عام خود کو راولپنڈی سے جوڑتے رہے ہیں، تیسرا یہ ہے کہ سندھ کی جو مقبول عوامی تحاریک ہیں ان میں جمعیت علما اسلام کا تو کردار نظر آتا ہے لیکن مسلم لیگ فنشکنل خاموش رہی ۔
 ون یونٹ کے خلاف تحریک، ایم آر ڈی میں تو پیر پاگارہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے تھے جبکہ کالا باغ ڈیم کے خلاف تحریک میں بھی عوامی آواز میں آواز ملانے کے بجائے وہ اس کے حمایتی نکلے اور انہوں نے جنرل مشرف کی حمایت کردی تھی۔ اس صورتحال میں سندھ کے لوگ مسلم لیگ فنکشنل کو دوسرا نہیں بلکہ بدترین آپشن سمجھتے ہیں۔ اسکو بطور آپشن دینے کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچتا ہے۔
 عمرکوٹ میں اس الائنس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ سندھ میں گورنر راج نافذ کیا جائے یعنی ایک منتخب حکومت کو چلتا کردیا جائے یقینن یہ ایک غیر جمہوری مطالبہ ہے جس سے یہ عزائم سامنے آتے ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد عوامی مسائل کے حل میں نہیںپر کسی طرح سے اقتدار تک رسائی ہے۔
 یہ اتحاد تضادات کا بھی منبہ نظر آتا ہے، قومی عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کی سیاست جاگیرداروں اور پیروں کے خلاف رہی۔ آج ان کا فرزند ایاز پلیجو اسی اتحاد کا ترجمان بناہوا ہے، یعنی اب وہ ممتاز بھٹو کے دور حکومت کی بھی وکالت کریں تو ارباب غلام رحیم کے دور کی برایاں بھی انہیں نظر نہیں آئیں گی۔
 اس اتحاد میں شامل پانچ سابق وزرائے اعلیٰ یقینن اسی منصب کے امیدوار ہوں گے جبکہ مسلم لیگ فنکنشل کی عرصہ دراز سے یہ کوشش ہے کہ یہ منصب اس کے حصے میں آئے۔ اتحاد میں شامل فریق اس کو اتنا آسان بنانا چاہیں گے؟
 دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے موجودہ پیر پاگارہ اور ان کے بھائی صدرالدین شاہ کے درمیان اختلافات کی بازگزشت ہے۔ گزشتہ انتخابات میں وہ خود سرگرم ہوئے تھے لیکن اس بار انہوں نے فاصلہ ر کھاہے ۔عملا اس اتحاد میں ایسی کوئی بھی قدآورشخصیت موجود نہیں جس کو صوبے کی سطح پراہمیت یا اپیل حاصل ہو۔ مسلم لیگ فنکشنل خیرپور، سانگھڑ، عمرکوٹ تو ارباب غلام رحیم تھر اور لیاقت جتوئی دادو کی حد تک سیاسی اثر رسوخ رکھتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی پارٹی پروگرام ہے اور نہ منشور اپنی میں خود ہی تنظیم ہیں۔یہ مختلف الخیال شخصیات کا اتحاد ہے جس میں کوئی ایسا گروپ شامل نہیں جس کی صوبے بھر میں کوئی تنظیمی شکل ہو۔ جسقم، جیئے سندھ محاذ سمیت جیئے سندھ کا کوئی کے کسی بھی گروپ ، یہاں تک کہ جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی تاحال اس اتحاد میں شامل نہیں۔ 

مسلم لیگ (ن) بھی گرینڈ ڈیمو کریٹس الائنس میں شامل رہی، لیکن میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست نے اس کو دور ہٹنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس وقت وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی اس اتحاد میں موجود ہیں جو ہیں تو مسلم لیگ( ن )میں لیکن خود کو اس سے الگ رکھا ہوا ہے، اس سے قبل اسماعیل راہو اور دیگر رہنماو ¿ں نے اپنے قدم روک لیے تھے، یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ممتاز بھٹو، غوث علی شاہ اور لیاقت جتوئی بھی مسلم لیگ ( ن) سے ٹوٹ کر اس اتحاد میں گرے ہیں جو بھی اندرونی طور پر نواز لیگ کے مخالف ہیں۔ ایک سنیئر تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ اس وجہ سے حکمران جماعت نواز لیگ میں شامل ہوئے تھے کہ اب پیپلز پارٹی سے ”بدلہ“ لیں گے اور اقتدار میں حصہ پتی حاصل کریں گے۔ لیکن ملکی صورتحال کے پیش نظر نواز شریف پی پی کے خلاف کوئی ایسا قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اب وہ اپنا غصہ اور مایوسی کا بدلہ پیپلزپارٹی کے خلاف اظہار کر کے نکال رہے ہیں۔ ان کا شاید یہ بھی خیال ہو کہ جس طرح سے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے ساتھ پیپلزپارٹی کے خلاف بھی کرپشن کے لازامات میں مقدمات منطقی نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے متوازی جماعت مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں آئی ہے۔ کیا پتہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں بھی کسی سیاسی قوت کی ضرورت پڑے۔ ایسے میں ان کا یہ اتحاد کام آسکتا ہے۔ 

تحریک انصاف بھی اتحاد کے قیام کے وقت قریب قریب رہی اور اس کے رہنما نادر اکمل لغاری اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتے رہے لیکن بعد میں تحریک انصاف بھی غیر سرگرم ہوگئی ۔یقینن تبدیلی کا اعلان اور جمود والی سیاست شخصیات ساتھ نہیں چل سکتیں ،اس لیے تحریک انصاف کا فیصلہ درست سمت میں نظر آتا ہے، قوم پرست میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے اس بار خود کو اتحاد سے دور رکھا ہے انہیں انہیں کچھ شکوہ شکایت ہیں۔
اس اتحاد کی قیادت مسلم لیگ فنکشنل کے پاس ہے اور اس نے عام انتخابات کے بعد بلدیاتی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کیا ہے، اسی طرح اس میں شامل فریق بھی ایسی صورتحال سے گذر چکے ہیں عام انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی نظریں پھر بھی ان پراسرار بندوں پر ہیں جو انہیں کندھے پر بٹھاکر اقتدار تک پہنچائے کیونکہ ان کا کردار اور خیال کبھی ایسے نہیں رہے کہ عوام یہ فرائض سر انجام دے۔

http://www.dailyausaf.com/story/103918
Sohail Sangi Column  Ye Hath Salamat hen jab tak. Daily Ausaf

No comments:

Post a Comment