چھوٹو گینگ اور سندھ حکومت کی تشویش
کالم ۔۔
کالم ۔۔
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی
پنجاب میں چھوٹو گینگ کا گھیراو ¿ تنگ ہونے کے بعد امکان ہے کہ وہ راہفرار لیکر صوبہ سندھ کے کچے میں داخل ہو، اس بات میں اس وجہ سے بھی وزن ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کو یہاں پناہ ملتی رہی ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ سے سنیچر کے روز ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبر نے ملاقات کی تھی جس میں پنجاب میں چھوٹو گینگ کے خلاف جاری آپریشن کے سندھ پر اثرات پر غور کیا گیا اور دونوں صوبوں کے سرحدی علاقوں کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چھوٹو جو کبھی پنجاب پولیس کے مخبر رہے ، اسکی سندھ کے نمبر ون ڈاکو سلطان عرف سلطو شر سے دوستی ہے۔ پولیس کے مطابق سلطو شر ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں سرگرم ہے، دونوں ڈاکوﺅں کی ”قدر مشترکہ“ یہ بھی ہے کہ ان کا کوش قبیلے سے دیرینہ تنازعہ ہے۔
گھوٹکی سے دریائے سندھ کی اپ اسٹریم میں دریائے سندھ کے چوڑائی آٹھ کلومیٹر سے گیارہ کلومیٹر تک ہے، جس میں کچا کراچی، کچا مورو، کچا اورنگی اور کچا حیدرآباد سمیت مختلف چھوٹے جزائر ہیں جو متوسط سیلاب میں بھی محفوظ رہتے ہیں، پولیس کے مطابق پنجاب کے ڈاکو اس جغرافیائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
2010 کے آپریشن کے بعد چھوٹو نے بلوچستان کے علاقے نال میں پناہ لے لی تھی۔ جب صورتحال معمول پر آئی تو وہ واپس آگیا۔اس آپریشن میں ان دنوں وسطی سندھ میں تعینات ایک ایس ایس پی بھی شریک تھے ان کا کہنا ہے کہ 2012 میں ایک بار پھر آپریشن ہوا جس میں چھوٹو کے رشتے دار بھی حراست لیے گئے لیکن اس نے راجن پور پولیس چوکی پر حملہ کرکے گیارہ پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا اور بدلے میں اپنے رشتے داروں کی رہائی کرائی اور سندھ کی طرف چلا گیا۔
اس ایس ایس پی مطابق 2012 میں چھوٹو پولیس سے صرف چند میٹر سے بچ گیا تھا، جب بہاولپور ٹول پلازہ پر اس کی گاڑی کو روکا گیا لیکن اس نے فرار ہونے کی کوشش کی اور حادثے کا شکار ہوگیا اس کا ایک قریبی رشتے دار فوت ہاگیاجبکہ تین افراد کو حراست میں لیا گیا تاہم چھوٹو فراہم ہونے میں کامیاب رہا۔
سندھ میں چھوٹو کا ٹھکانہ اس کے دوست سلطو شر کی پناہ گاہ رہے۔ اخبارات میں جو تصاویر شایع ہوئی ہیں اس میں اس نے گھوٹکی اسٹائل کی سندھی ٹوپی پہن رکھی ہے، گزشتہ سال جب کچے میں پولیس نے آپریشن کیا تو اس وقت بھی چھوٹو یہاں موجود تھا اور اس نے سلطو شر کے گروہ کے ساتھ مل کر پولیس کا مقابلہ کیا، اس آپریشن میں ایک ایس ایچ او ہلاک ہوگیا۔ بعد میں پولیس بے بس ہوگئی رینجرز نے آپریشن کی کمانڈ سنبھالی ااور جنگل میں آگ لگانا شروع کردی، تو ڈاکو پیچھے ہٹ گئے اور علاقہ چھوڑ گئے اس کے بعد چھوٹو بھی اپنے علاقے کی طرف چلا گیا۔
بالائی سندھ میں دریا کے دونوں اطراف میں خیرپور، شکارپور، کشمور اور گھوٹکی میں اس وقت بھی ڈاکو سرگرم ہیں، لیکن قبائلی تنازعات کی وجہ سے ان کی حدود غیر اعلانیہ طور پر محدود ہیں۔ ان علاقوں میں ڈاکو نذرو ناریجو کی دہشت رہی ہے جو گزشتہ سال ایک مقابلے میں مارا گیا پولیس نے اس کے رشتے داروں کا بھی پیچھا کیا اور میرپورخاص میں دو افراد مقابلے میں ہلاک ہوئے۔
سندھ میں ڈاکو اغوا کے علاوہ بھتہ خوری اور کچے کی زرخیز زمینوں پر کاشت اور بھینسیں بھی پالتے جن کا دودھ قریبی شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے، نذر ناریجو کے حوالے سے بھی بعض تھوریز ہیں کہ سیاسی شخصیات کے ساتھ اختلاف کے بعد اس کی موت کا پروانہ جاری کیا گیا تھا۔
نذرو ناریجو کے بعد اس وقت سندھ کا سب سے بڑا ڈاکو سلطو شر ہے، جو خود اغوا کی وارداتیں نہیں کرتابلکہ دوسرے چھوٹے چھوٹے گروہ اغوا کرکے مغوی انہیں بیچ دیتے ہیں اور تاوان سلطو شر وصول کرتا ہے۔چھوٹو نے بھی اسی طریقہ کار کو اپنایا ہے۔ اب یہ دونوںسندھ اور پنجاب کے ڈاکو مغویوں کا تبادلہ بھی کرتے ہیں یعنی کسی مغوی کے حوالے سے پولیس کا دباو ¿ بڑھ جائے تو اس کو کسی اور مقام پر منتقل کردیا جاتا ہے۔
اندرون سندھ اغوا کی وارداتوں میں کچھ قدر کمی آئی ہے، پہلے جس طرح سڑکوں پر نکل کر ڈاکو اغوا کی وارداتیں کرتے تھے اب اس کی شدت کم ہوئی ہے لیکن ساتھ میں دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اب یہ تاجروں سے بھتے لیتے ہیں جن میں ہندو برادری کے تاجر اور دکاندار سب سے پیش پیش ہیں۔
اندرون سندھ ہندو برادری کے لوگ زرعی ادویات، زرعی اجناس اور کریانے کے علاوہ سونار کے کاوبار سے منسلک ہیں۔اس کاوبار کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد انہیں ہاٹ کیک سمجھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے ان میں سے کئی تاجروں نے اپنے خاندانوں کو کراچی اور حیدرآباد منتقل کردیا ہے، کیونکہ اب وہ زمانہ نہیں رہا ہے جب کہا جاتا تھا کہ ڈاکو کمزوروں خاص طور پر خواتین اور بچوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔
سندھ میں پرو چانڈیو، محب شیدی، کارو ناگ، کراڑو تھیبو، نادر جسکانی جیسے بڑے ڈاکو رہے ہیں جن میں سے کئی وڈیروں کے مظالم کے ردعمل میں ڈاکو بن گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ڈاکوں کی زندگی پر فلمیں بھی بنیں جن میں انہیں ہیرو کے روپ میں پیش کیا گیا۔ جس پر بعض نقادوں نے شدید تنقید کی کہ جرائم پیشہ افراد کے ذریعے رومانس پیش کیا جارہا ہے۔
کوئی بھی جرم پشت پناہی کے بغیر پروان نہیں چڑھتا وہ کسی مقامی وڈیرے کی ہو یا ریاستی اداروں کی چھوٹ کا نتیجہ۔جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں سندھ میں ڈاکو کو پہلے چھوٹ دی گئی اس کے بعد ان کے خلاف بھرپور آپریشن ہوا نتیجے میں کچے کے جنگلات کو بے دریغ کاٹا گیا۔ اور یہاں سے جو زمینیں حاصل ہوئیں وہ اپنے من پسند لوگوں کو دی گئیں کشمور سے لیکر ٹھٹہ تک دریائے سندھ کے دونوں اطراف میں واقع اس زمین پر کیٹیاں بن ہوئی ہیں جن کے مالکان وہ ہی ہیں جن کا رخ ہمیشہ پنڈی کی طرف ہوتا ہے۔ قبائلی بنیادوں پر سیاست کرنے والے ان سرداروں اور جاگیرداروں کی ڈاکو سیاسی مجبوری ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی حکمرانی قائم کیے ہوئے ہیں۔
سندھ حکومت کو یہ تشویش ہے کہ چھوٹو گینگ سندھ میں داخل نہ ہوجائے لیکن اس وقت اس کے اپنے صوبے میں جو ڈاکو چھپے ہوئے جن کے خلاف شکارپور اور گھوٹکی میں آپریشن ناکام ہوچکے ہیں، اس کے بارے میں کوئی تشویش ہی نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قاقبل غور ہے کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ رہا ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا دائرہ کراچی سے باہر بھی بڑھایا جائے لیکن اس پر حکومت خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔
http://www.dailyausaf.com/story/103918
Sohail Sangi Column Ye Hath Salamat hen jab tak. Daily Ausaf
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی
http://www.dailyausaf.com/story/103918
Sohail Sangi Column Ye Hath Salamat hen jab tak. Daily Ausaf
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

No comments:
Post a Comment