Sunday, March 27, 2016

شکستہ دل مخدوم خاندان اور پیپلزپارٹی


شکستہ دل مخدوم خاندان اور پیپلزپارٹی
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔۔ سہیل سانگی

پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے صوبہ سندھ کی سرور نوح کی اہم گدی کے سجاہد نشین مخدوم جمیل الزمان کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دبئی میں ان سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے رابطہ کرکے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے گلے شکوہ دور کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سے پہلے سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو واضح کرچکے ہیں کہ پیپلز پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا ہے، لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ نواب یوسف تالپور، میر ہزار خان بجارانی سمیت سینئر رہنماوں کی بڑی فہرست ہے جو ناراض ہے اور گزشتہ دنوں محذوم خاندان نے اپنا وزن ڈال کر اس کا پلڑا بھاری کردیا۔

جس کے بعد مخدوم خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان کشیدگی کمروں سے نکل کر عوامی اجتماعات تک آگئی تھی، مخدوم جمیل الزمان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اب وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید عرصہ رہنے کے پابند نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے والد مخدوم امین فہیم کی وصیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ بے وقت ضرورت اس کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے۔

ہالا کے مخدوم خاندان کی یہ تیسری نسل ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ نبھاتی چلی آرہے ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مخدوم طالب المولیٰ کے ذاتی دوستی تھی اور پیپلز پارٹی کا پہلا کنوینشن بھی ہالا میں ہی منعقد کیا گیا تھا، والد کا یہ سیاسی اور ذاتی رشتہ مخدوم امین فہیم بھی نبھاتے آئے تھے۔

چند ماہ قبل مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد یہ گدی مخدوم جمیل الزمان نے سنبھالی ہے۔ ہالا میں اپنے مریدوں اور عقیدتمندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انہیں بتایا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں جہاں بھی سروری جماعت کے لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کی فہرست حکومت سندھ کو دے دی گئی ہے اور انہیں آگاہ کیا ہے کہ انہیں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستیں دی جائیں اب انہیں انتظار ہے کہ پارٹی کتنا مثبت جواب دیتی ہے۔

مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر رہے اور انہیں بینظیر بھٹو کا اعتماد بھی حاصل رہا ۔سندھ میں اپنے خاندان کے علاوہ اپنی جماعت کے بعض بااثر افراد کو اسمبلی کی نشستوں اور دیگر معاملات میں میں ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں ۔لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب صدر آصف علی زرداری نے قیادت سنبھالی تو صورتحال میں تبدیلی آنے لگی اور مخدوم امین فہیم پچھلی نشست پر چلے گئے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جب وصیت کا معاملہ سامنے آیا تھا تو مخدوم امین فہیم نے تصدیق کی تھی کہ یہ محترمہ کی ہی وصیت ہے اس کے بعد آصف علی زرداری نے اعلان کیا تھا کہ مخدوم صاحب ہی وزیر اعظم بنائے جائیں گے۔ انہوں اس ذو معنی جملے سے مخدوم امین فہیم، مخدوم شاہ محمود قریشی اور مخدوم یوسف رضا گیلانی تینوں کو خوش کردیا تھا یہ تینوں صف اول کے رہنما تھے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر اعظم سندھ سے تعلق رکھتا ہے تو تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ یہ باری اب مخدوم امین کی ہے۔

آصف علی زرداری نے بعد میں جب یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا گیا تو مخدوم امین فہیم نے سمجھا کہ انہیں شاید وصیت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس کے بعد سے وہ آخری وقت تک شکستہ دل کے ساتھ پارٹی میں رہے۔
        
مخدوم امین فہیم بھی اپنی جماعت سے ناراض ہوتے تھے لیکن انہیں منالیا جاتا تھا یا وہ خطرے کی لائین عبور نہیں کرتے تھے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جب ان کی بے بسی پر بیان دیا تھا تو مخدوم امین نے کہا تھا کہ وہ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ہیں اسکو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے ہیں۔ لیکن موجودہ گدی جمیل الزماں کے پاس آنے کے بعد انہوں نے والد کی سیاست اور روایت کے بجائے اپنا طریقہ کار اپنایا ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی سے گزشتہ چند سالوں میں ناہید خان ان کے شوہر صفدر عباسی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، نبیل گبول اور فیصل عابدی اپنی راہیں الگ کرچکے ہیں لیکن سوائے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے، پارٹی چھوڑنے والے کسی اور سیاست دان نے کوئی جگہ نہیں بنائی، حالانکہ بلدیاتی انتخابات میں لاڑکانہ میں عباسی خاندان نے بڑے پیمانے پر اتحاد بھی کیے لیکن کوئی برتری نہیں مل سکی تھی۔

مخدوم خاندان کی یہ بھی خواہش ہے کہ جس طرح مخدوم امین فہیم کے پاس پارٹی کا مرکزی سینئر عہدہ تھا ۔یہ اب مخدوم جمیل الزمان کو دیا جائے، یقینن سیاسی اور جمہوری روایت میں اس قسم کی فرمائش کوئی نیک شگون نہیں ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں پروگرام پر چلتی ہیں گدی کے حکم پر نہیں۔ اس لیے صرف سروری جماعت کے حوالے سے بات کرنا سیاسی دانشمندی نہیں کیونکہ ہر حلقے میں سروری جماعت کے علاوہ دوسرے بھی ووٹر ہوتے ہیں جو سب مل کر ہی ایک نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔

سندھ میں ان دنوں گرینڈ ڈیموکریٹس الائنس کے نام سے مسلم لیگ فنکنشل سمیت قومپرست جماعتوں کا ایک الائنس موجود ہے، جس کی سربراہی پیر پاگارہ کر رہے ہیں، بعض تجزیہ نگار مخدوم خاندان کی دہمکی کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی قیادت کی تردید اور وضاحتیں اپنی جگہ پر، اس وقت یہ افواہیں عام ہیں کہ پیپلز پارٹی میں بھی کوئی فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے اور اس صورتحال میں مخدوم خاندان اپنے آپشن کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اگر پیپلز پارٹی میں رہے تو اپنی روایت اور شناخت برقرار رکھے بصورت دیگر کہیں دوسرے فریق کے پاس جائے تو اپنا شیئر دکھا سکے۔

سروری جماعت کو حر جماعت کی طرح کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ اس کا ووٹ تقسیم ہے اس کے مرید سندھ کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں اس کے برعکس سندھ کے چار سے زائد اضلاع میں حر جماعت کاووٹ بینک فیصلہ کن حیثیت میں موجود ہے جہاں سے مسلم لیگ فنکشنل نسشتیں حاصل کرتی رہی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں مخدوم خاندان نے ایک قومی اور تین صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ہالا میں تو ایک عام تاجر نے مخدوم امین فہیم کے سامنے الیکشن لڑکر اچھے خاصے ووٹ حاصل کرلیے تھے اور وہ مخدوم خاندان جو حویلی میں بیٹھے بیٹھے جیت جاتے تھے ان کو باہر نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔

 پیپلز پارٹی کی سندھ میںکے طرز حکمرانی اور بدعنوانی کی کئی شکایات ہیں کئی وزرا ءاور سیکریٹری اس وقت کرپشن کے مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا مخالفین فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

کیا مخدوم آزادانہ سیاست کرسکتے ہیں یا انہیں سیاسی سہارے کی ضرورت پیش آئیگی؟ یقینن بغیر سہارے کے سیاست کے لیے ان کے پاس ذرائع اور سیاسی وسائل ہیں کیونکہ مخدوم امین فہیم کی وفات کے بعد کی نسل میں اتنا کوئی بڑا نام نہیں جس کے تعلقات اس قدر ہوں۔ اتنا بڑا عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود ہالا شہر کی حالت ناقابل دید ہے یہاں لوگ بھی اس خاندان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں سندھ تو دور کی بات ہے۔

اگر مخدوم خاندان پاگارہ کی قیادت میں گرینڈ الائنس کے ساتھ مل جائے تو بعض علاقوں میں یہ موثر ہوسکتے ہیں لیکن بقول ایک تجزیہ نگار کے اس الائنس میں بھی وزیر اعلیٰ کے منصب کے کئی امیدوار ہیں مخدوم خاندان کو کوئی بڑا شیئر یہاں سے ملنا مشکل ہے۔

Sent on March 20, 2016 
 Daily Ausaf
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی


Saturday, March 19, 2016

کراچی میں نامعلوم افراد کی واپسی


 کراچی میں نامعلوم افراد کی واپسی 
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

کراچی میں ایک بار پھر نامعلوم افراد کا راج ہے، یعنی ایم کیو ایم کے منحرف رہنما مصطفیٰ کمال کی نامعلوم جماعت، نامعلوم افراد کی جانب سے شہر کے بعض علاقوں میں مصطفیٰ کمال کے پوسٹر لگائے گئے اور نامعلوم ہی افراد نے انہیں پھاڑ بھی دیا۔

اسی طرح ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا دعویٰ ہے کہ نامعلوم کالز پر ان کے اراکین اسمبلی کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اور مشورہ دیا جارہا ہے کہ پل کی اس طرف شامل ہوجائیں، ڈاکٹر فاروق ستار کا اشارہ یقینن مصطفیٰ کمال کی طرف ہی تھا۔ لیکن مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار ایک شریف النفش اور پھنسے ہوئے شخص ہیں اس لیے وہ ان سے کوئی شکوہ نہیں کریں گے۔

شہر کے امرا ءکے رہائشی علاقے ڈفینس میں رہے کر غرنا کے غم میں غرق ہونے والے مصطفیٰ کمال اس قوت خود کو ایک نجات دہندہ، خوددار، ایماندار اور وطن دوست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ انیس قائم خانی، ڈاکٹر صغیر احمد اور وسیم آفتاب بھی اس وقت تک ان کی ہاں میں ہاں ملا چکے ہیں۔
قابل حیرت بات یہ ہے کہ رابطہ کمیٹی اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے ان اہم رہنماو ¿ں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ کیا فیصلے کیے جا رہے ہیں اور انہیں اعتماد میں ہی کبھی نہیں لیا گیا، کراچی کے معاملات کراچی تنظیمی کمیٹی دیکھتی رہی ہے جس کے آخری رہنما حماد صدیقی تھے جس کو الطاف حسین نے تحلیل کردیا تھا۔

چند ماہ قبل الطاف حسین کی تقریر کو یاد کریں جس میں انہوں نے کھل کر رابطہ کمیٹی، وزرا اور دیگر ذمہ داران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اور کہا تھا کہ پارٹی کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اتوار بازار، چائنا کٹنگ، ملازمتوں کے ساتھ تنظیمی وظیفے بھی لینے سمیت تیسر ٹاو ¿ن میں اردو آبادی آباد کرنے کے نام پر پلاٹنگ وغیرہ کے الزامات خود الطاف حسین نے ہی عائد کیے تھے۔

مصطفیٰ کمال جب سٹی ناظم سے فارغ ہوئے تو ایک سال تک لاپتہ رہے۔ اس عرصے میں وہ کہاں رہے، اس کا جواب انہوں نے نہیں دیا ان سے ایسا سلوک کیوں روا رکھا گیا یہ بھی ایک راز ہے۔ جماعت اسلامی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے جب تنظیم کے فلاحی ادارے الخدمت فاو ¿نڈیشن کی ذمہ داری سنبھالی اور مقامی اور بین الاقوامی اداروں اور شخصیات سے فنڈس لینے میں کامیابی حاصل کی تو ایم کیو ایم نے اپنے فلاحی ادارے کے کے ایف یعنی خدمت خلق فاو ¿نڈیشن کی سربراہی ان کو دی گئیں بعض جے آئی ٹیز میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ اسی ادارے کی ایمبولینس کے ذریعے اسلحے کی ترسیل کی جاتی تھی مزید تفصیلات صولت مرزا کی دوسری جے آئی ٹی میں موجود ہیں۔

اسی طرح بلدیہ فیکٹری واقعے کی جے آئی ٹی میں بھی انیس قائم خانی اور حماد صدیقی کا نام آیا اور تفصیلات اخبارات میں شایع بھی ہوئیں لیکن عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ان میں یہ نام شامل نہیں تھے۔ جے آئی ٹی میں پولیس کے ساتھ ملٹری انٹلی جنس، آئی ایس آئی، انٹلی جنس بیورو، رینجرز کے نمائندے بھی شریک ہوتے ہیں یہاں پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما فیصل عابدی کے یہ کہنا درست لگتا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے ان منحرفین کا نام غلطی سے آگیا ہے تو پھر ان اداروں کے تمام اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے ان شخصیات کو بدنام کیا ورنہ لوگوں کا جے آئی ٹی سے اعتماد اٹھ جائے گا اگر یہ حکام اپنی رپورٹ میں سچے ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وہ جو ایک ڈٹرجنٹ کے اشتہار میں کہا جاتا ہے کہ ” داغ تو اچھے ہوتے ہیں” وہ حالیہ کہانی کے بارے میں سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ وہ لوگ شامل ہو رہے ہیں جن کا دامن صاف نہیں ہے اور کیا اسٹیبلشمنٹ بجائے ایسے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے دباو ¿ ڈال کے صفیں تبدیل کر رہی ہے یعنی یہاں بھی کالعدم تحریک طالبان جیسے حکمت عملی نظر آتی ہے کہ پھوٹ ڈال کر لڑا دیا جائے، لیکن اگر صورتحال سنگین ہوتی ہے تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی کیونکہ ملک کے سب سے بڑے شہری میں جنگی حکمت عملی کام نہیں کرسکتی۔

مصطفیٰ کمال پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے دور نظامت کی آڈٹ کیوں نہیں کرنے دی گئی تھی اور حالیہ دنوں سرگرم قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے ان کے معاملے میں کیوں خاموش ہے۔؟ ایک سوال ایم کیو ایم کے حلقوں سے ہمارے کانوں تک بھی پہنچا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ خدمت خلق فاو ¿نڈیشن کا جب حساب کتاب لینے یعنی آڈٹ کی بات ہوئی تو مصطفیٰ کمال ناراض ہوگئے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ حماد صدیقی اور انیس قائم خانی کسی جرم میں شریک نہیں ہیں لیکن یہ انہوں نے نہیں عدالت نے ثابت کرنا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک فریق کے لیے راہ ہموار کی جارہی تو دوسروں کو اسی میں پھنسایا جارہا ہے مثلا ڈاکٹر عاصم نے کیا مبینہ مشتبہ ملزمان کا خود علاج کیا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان میں جو سہولت کار کا ٹرم استعمال کیا گیا ہے پھر وہ کہاں فکسڈ آئیگا۔
کراچی میں سنیچر کی شب گلشن اقبال اور عیسیٰ نگری میں رینجرز کی پوسٹ پر دستی بم حملے کیے گئے ہیں ۔ کیا کراچی میں امن کے قیام کی کوششیں اسے مزید کشیدگی کی طرف تو نہیں دہیکل رہی ہیں، ماضی میں بھی آپریشن کے بعد کے ایکشن کا نتیجہ کئی لاشوں کی صورت میں نکلا تھا ۔ موجودہ وقت اسٹبلشمنٹ کی پالیسی بظاہر تو ”گو سلو“ جا رہی ہے لیکن اگر اس کی تمام توانائیاں ایک جماعت کو توڑنے اور دوسری کو بنانے میں صرف ہوں گی تو دہشت گردی اور خاص طور پر انسداد دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہے وہ کہاں جائیگا۔

 سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر سیاسی تبدیلی کا کوئی فریق خواہشمند بھی ہے تو بجائے عوامی رابطہ مہم چلانے کے میڈیا کے کندھے پر چڑھ کر کتنا سیاسی سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ مصطفیٰ کمال یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ ان نشستوں پر انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے جو ان کے ساتھ شامل ہونے والے اراکین اسمبلی چھوڑ رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے باغ جناح میں جلسے کا اعلان کیا ہے، یقینن اس جلسے میں لوگ دستیاب ہوجائیں گے کیونکہ کراچی میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن اور خاص طور پر برمی، بنگالی اور بہاری آباد ہیں جو کچھ بڑے اداروں کے زیر اثر بھی ہیں کم سے کم وہ پنڈال تو بھر ہی لیں گے، لیکن مصطفیٰ کمال کو یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کم ٹرن آو ¿ٹ اردو آبادی کا ہی رہا ہے یعنی پچیس سے تیس فیصد لوگوں نے ایم کیو ایم کے علاوہ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو بھی اس قدر ووٹ نہیں دیا جس کی توقع کی جارہی تھی تو کیا وہ الطاف بھائی سے لیکر اپنا ووٹ مصطفیٰ کمال کی گود میں ڈال دیں گے، جن کے بارے میں کئی تجزیہ نگار یہ لکھ چکے ہیں کہ وہ کسی کی گود میں ہیں۔

http://www.dailyausaf.com/story/98995


پیپلز پارٹی حکومت کو ایک اور دھچکا

 پیپلز پارٹی حکومت کو ایک اور دھچکا 
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو برخاست کرکے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہلاکر رکھ دیا ہے جس سے یقینن بیوروکریسی کو یہ سبق حاصل ہوکا ہوگا کہ حکومت کی ہر بات مانی نہیں جاسکتی۔
آئی جی غلام حیدر جمالی پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس میں قوائد و ضوابط کی خلاف کرتے ہوتے بھرتیاں کیں اور فنڈز کا بے جا استعمال کیا، موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق بھی کردی تھی۔

جس وقت یہ تحقیقات جاری تھی تو آئی جی غلام حیدر جمالی نے تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین اے ڈی خواجہ اور ثنااللہ عباسی کو واپس و ان کے پیرنٹ محکموں میں بھیجنا کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا یہ حکم ہے کہ ان افسران کو ان ہی اداروں کی طرف بھیجا جائے جہاں سے بنیادی طور پر ان کا تعلق ہے لہذا اے ڈی خواجہ فارین آفس اور ثنا اللہ عباسی کو متعلقہ محکمے میں بھیجا جائے۔

کراچی میں بدامنی کے خلاف حالیہ سماعت کے موقعے پر بھی جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی غلام حیدر جمالی کو متنبہ کیا تھا کہ انہیں اس عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے، جس پر آئی جی غلام حیدر جمالی نے پسنددگی کا اظہار کیا تھا اور بات اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے بینچ پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کرتے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کمیٹی کے اراکین سے رابطے میں ہیں اس لیے ان پر انہیں اعتماد نہیں رہا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ کسی ایک فرد کے کہنے پر وہ اس بینچ سے علیحدہ نہیں ہوسکتے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی آئی جی جمالی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بے اعتمادی کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جب جمع کے روز پولیس میں بے قاعدگیوں کا مقدمے زیر سماعت آیا تو آئی جی غلام حیدر جمالی تنہا ہوگئے عدالت نے حکومت کو ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کے اراکین کا کہیں بھی تبادلہ وغیرہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے سوال کیا گیا کہ ایک افسر پر جب سنگین نوعیت کے الزامات ہوں تو کیا اس کو عہدے پر رکھنا درست ہے؟

عدالت کے اس نوعیت کے ریمارکس آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بالاخر انہیں سبکدوش کردیا، دوسرے روز وزیر اعلیٰ کا ہمدرانہ بیان بھی شایع ہوا کہ ان کی کارکردگی اچھی ہے۔

سابق آئی جی غلام حیدر جمالی پر سندھ ہائی کورٹ میں توہین عدالت بھی مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں ان پر فرد جرم نافذ ہوچکی ہے، یہ مقدمہ دراصل سوموٹو ہے جس کی شکایت کندہ اور گواہ عدالت خود ہی ہے، جس روز پاکستان پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنے خلاف دائر ہونے والے اسنداد دہشت گردی کے مقدمات سے ضمانت کے لیے آنے والے تھے تو اس روز اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور پولیس کے دیگر محکموں نے داخلی راستے کا گھیراو ¿ کرکے نہ صرف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا حامیوں تو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس تشدد کو کیمروں میں قید کرنے والے صحافیوں پر بھی ٹوٹ پڑے۔

رجسٹرار نے چیف جسٹس ک ریفرنس بہیجا کہ پولیس کے اس عمل کی وجہ سے سائل کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت پہچنے میں دشواری ہوئی، اس سنجیدہ معاملے پر جب عدالت نے آئی جی غلام حیدر جمالی نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاضر ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے انہیں توہین عدالت کا نوٹیس جاری کیا۔

سپریم کورٹ میں سندھ پولیس کا ایک اور بڑا معاملہ بھی بم کی طرح ٹک ٹک کر رہا ہے جو بھی کسی وقت پھٹ سکتا ہے، یہ ہے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ ہے، سندھ حکومت نے سربیا سے بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کا سودہ کیا تھا احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل سابق ایس ایس پی شکیب قریشی کی معرفت کی گئی جو لندن میں قیام کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریبی حلقے میں شامل رہے اور سندھ میں لینڈ یوٹلائزیشن سمیت کئی محکموں کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔

پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے یہ بکتر بند گاڑیاں کم قیمت پر بنانے کی پیشکش موجود تھی جس کو نظر انداز کیا گیا، جس پر کچھ مقتدر حلقوں نے ناراضگی کا اظہار کیا یقینن جب ملکی ضروریات کی اشیا باہر سے منگوائی جائیں گی تو پاکستان میں اسلحہ سازی کی صنعت پر اعتماد میں کمی ہوگی، اسی طرح امریکی اداروں کی جانب سے 40 ملین رپے فی بکتر بند کی پیشکش کو مسترد کیا گیا اور اس کے برعکس سربیا کی ایک کمپنی سے 120 ملین رپے فی گاڑی کا سودہ کیا گیا، یہ گاڑی بھی نئی نہیں بلکہ استعمال شدہ تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے شہر کو نظر انداز کرکے پیپلز پارٹی حکومت نے اپنے ہی گڑہ لیاری کی صورتحال کا جواز بناکر موقف بیان کیا کہ وہاں کارروائی کے لیے بکتر بند گاڑیوں کی فوری ضرورت ہے اس حوالے سے ایمرجنسی کی بنیاد پر ان کی خریداری کے لیے پیپرا کے قوانین یعنی ٹینڈر کرکے ان کی خریداری کو مسترد کردیا، آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ بھی پولیس اور سندھ حکومت دونوں کے لیے ایک دھچکا بن سکتا ہے۔

سندھ پولیس میں افسران کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے، جب ترقیوں اور تعیناتیوں میں کمیشن پاس افسران کو نظر انداز کیا گیا تھا تو کمیشنڈ افسران نے عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں کئی نان کمیشنڈ افسران کی کئی گریڈ تنزلی ہوگئی یہ بات بھی پولیس کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی قیادت کو پسند نہیں آئی تھی۔

کراچی میں جب آپریشن شروع ہوا تو شاہد حیات کراچی پولیس کے سربراہ تھے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ تعیناتی بھی ان کے بینچ میٹ شقیب قریشی کی تعاون سے سامنے آئی لیکن جب آپریشن نے تیزی پکڑی تو صدیوں کے یارانے گئے کی طرح شاہد حیات کا تبادلہ کیا گیا، شاہد حیات کو رینجرز سمیت دیگر اداروں کا تعاون حاصل تھا اس وجہ سے پولیس کو مرکزی کردار رہا ان کے تبادلے کے بعد پولیس پر بے اعتمادی آگئی، شہر میں کئی ایسے افسران تھے جو رینجرز حکام کی تجویز پر تعینات کیے گئے تھے لیکن بعد میں غلام قادرو تھیبو کی آمد کے بعد یہ افسران اندرون سندھ بدلی ہونے لگے جب شہر میں پولیس دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جس میں ایک پر رینجرز تو دوسرا پرو آئی جی گروپ بن گیا۔

اس کشیدگی میں اے آئی جی ثنااللہ عباسی اور ڈی آئی جی سلطان خواکہ کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں کیونکہ اگر وہ یہاں ہوں گے تو عہدے بھی دینے پڑیں گے کیا یہ دونوں افسران قابل نہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ثنااللہ عباسیی کی قیادت میں کاو ¿نٹر ٹیرر ازم محکمے کی از سر نو تشکیل کی گئی تاکہ فرقہ ورانہ، لسانی، اور بیا الاقوامی دہشت گرد گروپوں کو الگ الگ کیا جائے، اسی طرح سلطان خواجہ نے بائیو میٹرکس نظام پر کام کیا جس کے تحت گرفتار ملزمان کی فنگر پرنسٹ لیے جاتے تاکہ فوری طور پر یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے قبل کن وارداتوں میں ملوث ہیں اس طرح ان ملزمان کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بھی رکھا گیا اورشہر کے تھانوں کو آپس میں کنیکٹ کیا گیا۔

نجی نیوز چینلز پر ان دنوں حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے اشتہاری مہم جاری ہے، جس میں کراچی آپریشن کا کریڈٹ لیا جارہا ہے، یہ حقیقت بھی ہے کراچی آپریشن میں یقینن پولیس نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جس کے دوران 1400 کے قریب اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے، لیکن اعلیٰ قیادت کے کرپشن اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے یہ قربانیاں نہ گائی جاتی ہیں نہ گنوائی جاتی ہیں حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ ہر جگہ پولیس ہی اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
http://www.dailyausaf.com/story/98635


Friday, March 11, 2016

رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات کی نئی شکل


رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات کی نئی شکل
کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

کراچی آپریشن پر رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان ایک بار پھر اختلافات نے سر اٹھایا ہے۔ اس بار ان اختلافات کی جگہ کسی سیاسی فورم پر نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالت تھی، جہاں شہر میں بدامنی کیس کی سماعت جاری تھی۔

رینجرز کو حاصل اختیارات پر پہلے ہی سندہ حکومت اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ رینجرز کسی شخص کو بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت شبہ میں 90 روز کے لیے حراست میں لینے سے پہلے پہلے صوبائی حکومت کو آگاہ کرے گی، اس طرح بدعنوانی کے مقدمات میں تفتیش کرنا رینجرز کا اختیار نہیں۔ وفاقی حکومت نے اس قرار داد کو مسترد کرکے رینجرز کو اپنی طرف سے یہ اختیارات سونپ دیئے ۔

رینجرز نے سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت کے دوران بتایا کہ انہوں نے چھ ہزار ملزمان کو پولیس کے حوالے کیا جن میں سے گیارہ سو ناقص تفتیش کی وجہ سے رہا ہوگئے، اس کو بنیاد بناکر رینجرز نے تجویز پیش کی ہے کہ انہیں شہر میں اپنے تھانوں کے قیام، ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کرکے چالان پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالتیں متبادل عدالتی نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ پولیس کے متبادل نظام یعنی رینجرز کے تھانوں کے قیام کا مطالبہ صوبائی خود مختاری میں عمل دخل نہیں۔ کیونکہ رینجرز آرڈیننس میں یہ تحریر ہے کہ وفاقی حکومت رینجرز کو پولیس کی مدد اور معاونت کے لیے طلب کرسکتی ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے رینجرز کو مخاطب ہوکر کہا تھا کہ وہ مقدمات میں فریادی ہونے کو تو تیار نہیں، تحقیقات، پیروی، پراسیکیوشن اور گواہ پیش کرنے کی بات کیسے کرتے ہیں؟

عدالت نے رینجرز کی فرمائش پر سندھ حکومت سے موقف طلب کیا اور چیف سیکریٹری نے انتہائی تیکنیکی انداز میں اپنے تحریری جواب میں آگاہ کیا کہ رینجرز کو تھانوں کے قیام کے اجازت دینے میں قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔
بعض سرکاری وکلا کی جانب سے نجی ملاقاتوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ عدالت میں یہ کہا جاتا ہے کہ ناقص تفتیش کی وجہ سے لوگ رہا ہوجاتے ہیں لیکن اس بات کا دوسرا رخ یہ ہے کہ رینجرز کی جانب سے اٹھائے گئے کئی افراد کے ورثاء عدالت میں مسنگ پرسسنز کی درخواست دائر کردیتے ہیں جبکہ رینجرز انہیں مشورہ دیتی ہے کہ ان سے مقابلے میں گرفتاری ظاہر کردو ،اب اس صورتحال میں پولیس پر بے اعتمادی ہوتی ہے اور ماتحت عدالت مشتبہ شخص کو رلیف دے دیتی ہے۔

سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات میں شدت سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی نوے روز کی تحویل کے بعد آئی تھی اور رینجرز کی جانب سے ان پر پولیس اور رینجرز پر حملہ میں ملوث اور دیگر دہشت گرد کارروایوں میں ملوث ملزمان کا علاج کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور بعد میں انہیں الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا لیکن تفتیشی افسر نے ان الزامات کو غطل قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کو کلین چٹ دے دی، جس پر رینجرز کے وکیل نے عدالت میں اعتراض کیا بعد میں رینجرز کے پراسیکیوٹر کو ہی ہٹادیا گیا۔
ڈاکٹر عاصم حسین کے تجربے کی بنیاد پر اب رینجرز کی خواہش ہے کہ تھانے، تفتیش اور پراسیکیوٹر ان کے اپنے ہوں، یعنی یہ مطالبہ سندھ کی پولیس اور پراسیکیوشن نظام پر کھلا عدم اعتماد ہے۔

کراچی میں اس وقت امن کے قیام کا کریڈٹ وفاقی اور صوبائی حکومتیں الگ الگ لیتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جبکہ رینجرز کا یقینن اس میں کلیدی کردار ہے، لیکن سپریم کورٹ کی اس شہر میں بدامنی سے نجات کے لیے طویل اور اہم سماعتوں سے کسی کو انکار نہیں کرنا چاہیے جس نے اس بدامنی کے پس پردہ محرکات، کردار اور حکمت عملی کو واضح کردیا تھا یعنی ایک فریم ورک بناکر حکومت وقت کو دیا ۔تاہم پاکستان پیپلز پارٹی عملدرآمد سے کتراتی رہی اور موجودہ حکومت نے اس پر ایکشن کا اعلان کیا۔

سپریم کورٹ نے شہر میں ٹارگٹ کلنگز جو فرقہ ورانہ، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر جاری تھی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور شدت پسندی کے خلاف ایکشن لینے کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن کی وطن واپسی، پیٹرول سمیت دیگر اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام کے بھی احکامات جاری کیے تھے۔
سپریم کورٹ میں ہر سماعت کے موقعے پر پولیس کو اپنے ناقص ہی صحیح کارکردگی رپورٹ پیش کردیتی ہے لیکن کسٹم، کوسٹ گارڈ، ائنٹی نارکوٹکس جیسے محکموں کی جانب سے اس مقدمے کے فیصلے آنے کے بعد کوئی پیش رفت رپورٹ پیش نہیں کی گئی حالانکہ شہر میں جاری بدامنی میں قیام امن کے لیے عدالت نے ان ممحکموں کو بھی اپنے کردار کی یاد دہانی کرائی تھی۔

ملک کے معاشی دل میں ترقی کا پہیہ دوڑ رہا صنعت کارتسلیم کر رہے ہیں کہ ان کے کاروبار میں وسعت آئی ہے، فیشن شوز، سئنیما گھروں، میلوں کے علاوہ اب شہر کی فوڈ اسٹریٹ دوبارہ رات کو آباد ہو گئی ہیں۔ یعنی اآج امن کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر صنعت کار اور تاجر طبقہ مطمئن ہے اس قدر کہ آپریشن کی کامیابیوں کے حوالے سے ایک پروگرام میں تو انہوں نے مارشل لا کو کو بھی جائز قرار دے دیا تھا کیونکہ اس میں امن ہوتا ہے۔
تمام تر اقدامات کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائیم اور خاص طور پر موبائیل فون چھیننے کی وارداتوں میں کوئی کمی نہیں آئی، یعنی سپریم کورٹ میں آئی جی غلام حیدر جمالی نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ ان وارداتوں میں صرف 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
شہر میں کاریں چھیننے کے واقعات میں کمی ہوئی ہے اس کی وجہ یقینن یہ ہے کہ جہاں ان کی ترسیل کی جاتی تھی وہاں ناکہ بندی کی گئی ہے اب جب مارکیٹ نہیں ہوگی تو یہ وارداتیں کم ہوں گی لیکن چوری کے موبائیلوں کی مارکیٹ موجود ہے اس لیے یہ چھنتے اور کہیں پر فروخت بھی ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے موبائیل سے محروم ہونےوالے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جو سڑکوں پر پیدل چلتے یا موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں اس کے علاوہ بسوں میں بھی یہ وارداتیں عام ہیں۔ ایسے بھی کئی گواہ موجود ہیں جنہوں نے موبائیل چھننے کے بعد قریبی رینجرز کی چوکی کو آگاہ کیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ملزمان کے پیچھے جانے سے معذرت کی کہ یہ ان کی ذمہ داری نہیں۔

شہر میں ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں یقینن کمی آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ماورائے عدالت ہلاکتیں رکارڈ بڑہ گئی ہیں پولیس اور دیگر ادارے ملزمان سے مبینہ مقابلے ظاہر کرکے ملزمان کی لاشیں میڈیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں، اسلحے کے بے جا استعمال یقینی طور پر رد عمل کو جنم دے گی اور جہاں اسلحے کا زیادہ استعمال ہوتا ہے وہاں یقینن پالیسیاں اور ادارے ناکام ہوچکے ہوتے ہیں۔
 Ausaf

http://www.dailyausaf.com/story/98275



Saturday, March 5, 2016

مردم شماری ضروری سہی پر پینڈورا باکس ہے


کالم ۔۔ یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔ سہیل سانگی

مردم شماری ضروری سہی پر پینڈورا باکس ہے

پاکستان تنازعات اور تضادات کا ایک منبہ بن چکا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ جب نا انصافی، غیر مصفانہ تقسیم اور اقربا پروری عام ہو تو افراد ہوں یا ادارے، بے اعتمادی کی فضا تو بن ہی جاتی ہے، اس وقت ملک میں مردم شماری بے اعتمادی کا شکار ہے۔ 

پاکستان میں ہر دس سال یعنی ایک دہائی کے بعد مردم شماری ہونی ہے، یہاں 1951 میں پہلی بار مردم شماری کی گئی تھی، اس کے بعد 1961 ، 1972 میں ترتیب وار مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، ویسے یہ 1971 میں ہونا تھی لیکن بنگلادیش کی علیحدگی کی وجہ سے اس میں ایک سال کی تاخیر ہوئی، بعد میں 1981 میں مردم شماری کی گئی اس کے یہ آئینی ذمہ داری دس سال کے بجائے سترہ سالوں کے بعد یعنی 1998 میں پوری کی گئی۔چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھا لیکن سیاسی وجوہات کی بنیاد پر نہیں کرائی جاسکی ۔ اور اب ایک بار پھر مردم شماری کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

 اعداد و شمار کی عدم دستیابی میں گزشتہ سترے برسوں سے ملکی آبادی کے بارے میں صرف اندازے لگائے جاتے رہے ۔ حالانکہ حقیقی اعداد و شمار کے بغیر ملک کا سیاسی اور معاشی مربوط اور مضبوط نظام صرف تخمینوں کی بنیادوں پر نہیں بنائے نہیں جاسکتے ہیں۔

حکومت کو کچھ اکابرین نے یہ مشورہ بھی دے رکھا ہے کہ مردم شماری کے جھنجھٹ میں پڑنے کے بجائے رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا کا رکارڈ متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ نادرا کے پاس ان لوگوں کو رکارڈ موجود ہے جن کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں جبکہ ملک کی ایک بڑی آبادی کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں یا پرانے کارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کارڈ میں تبدیل نہیں کیا اس لیے حکومت کے لیے یہ تدبیر بہتر نہیں ہوسکتی۔

ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ نادرا اپنا ڈیٹا کسی نجی ادارے یا محقق سے شیئر نہیں کرتا جبکہ مردم شماری ایک کھلی کتاب ہوتی ہے جو کوئی محقق یا ادارے چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی استعمال کرسکتا ہے۔ 

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی برابر نہیں ہے، جبکہ صوبوں کے نمائندہ وفاقی حکومت نے اپنے طور پر تعینات کیے ہیں جن کو صوبائی حکومتیں خاص طور پر سندھ حکومت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

چیف سینس کمشنر آصف باجوہ کہتے ہیں کہ مردم شماری مرحلہ وار کے بجائے ایک ہی وقت ہوگی اور اس مشق کو ایک سے ڈیرہ ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ سندھ حکومت اس کا دورانیہ کم سے کم تین ماہ چاہتی ہے اس کا موقف ہے کہ یہ علاقہ دریا کے کچے ایریا، پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں منقسم ہے جہاں عملے کو رسائی کے لیے وقت درکار ہے اگر دوارانیہ کم ہوگا تو یہ مشق مکمل ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ 

صوبوں اور وفاق کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے آئین کے تحت مشترکہ مفادات کی کونسل کے نام سے ادارے موجود ہے لیکن یہ ادارہ سب سے زیادہ کمزور اور غیر فعال ہے، صوبہ سندھ کا مطالبہ تھا کہ مردم شماری کے معاملے کو اس ادارے میں زیر بحث لایا جائے لیکن اطلاعات کے مطابق اس کو ایجنڈامیں رکھا ہی نہیں گیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی کابینہ کے پاس صرف چھ محکمے ہیں باقی یا تو صوبوں کو دے دیئے گئے ہیں یا پھر مشترکہ مفادات کی کونسل کو چلانے ہیں جس کے لئے اس کونسل کی مستقل سیکریٹریٹ کا قیام لازمی ہے۔ 
وفاقی حکومت مردم شماری میں بھی فوج کی مدد چاہتی ہے یقینن یہ بات درست ہے کہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر معمولی ہے، محکمہ شماریات نے مردم شماری کے لیے ساڑہ چودہ ارب رپے طلب کیے ہیں جن کا ابھی تک اجارا نہیں کیا گیا، اس میں سے آدھی رقم کا تقاضا پاکستان فوج نے کیا ہے جس کے بدلے میں سیکیورٹی فراہم کی جائیگی۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مرد مشماری ایک سیاسی اقدام ہے جس پر مختلف قومیتیں اپنے بارہا اعتراضات اور خدشات کا اظہار کرتی ائی ہیں، اس متنازعہ معاملے میں فوج کو دھیکلنا کتنا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔

صوبہ سندھ کی سندھی آبادی کو یہ خدشات ہیں کہ غیر مقامی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر کراچی میں ان کا اثر رسوخ کم ہوگیا ہے، سندھ میں ملازمتیں اور جامعات میں داخلے دیہی اور شہری کوٹہ کی بنیاد پر دی جاتی ہیں اس لیے انہیں یہ خوف ہے کہ اس سے یہ حصہ متاثر ہوگا۔

صوبہ بلوچستان میں پشتون اور بلوچ تنازعہ موجود ہے۔ وہاں بلوچوں کو شکوہ ہے کہ پشتون آبادی تیزی کے ساتھ بڑہی ہے اور ان کا سیاسی اور انتظامی گرفت کمزور ہوئی ہے بلوچ قومپرست شکوہ کرتے رہے ہیں بڑے پیمانے پر افغان شہریوں کو شناختی کارڈ مل چکے ہیں جس سے پشتون آبادی بڑہ رہی ہے اور بعض پشتون رہنما ان کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں جس سے بلوچ دن بدن اقلیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

اسی طرح پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی قومیتوں اور خیر پختون خواہ میں پشتون اور ہزارہ تنازعہ موجود ہے ہر قومیت مردم شماری میں اپنی اکثریتی آبادی دکھانے کی تگ و دو میں ہوگی۔
1998 کی بنیاد پر سیاسی اور انتظامی حد بندیاں کی گئی ہیں جبکہ مردم شماری میں ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جائے تاکہ اگر کہیں کوئی کمی بیشی رہے جائِے تو اسے ٹھیک کیا جاسکے، تصاویر اور جی پی ایس کی بھی مدد لی جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے اپوزیشن کا کردار ادا کر ا رہی ہے جس وجہ سے وفاق اور صوبائی حکومت میں کشیدگی بھی نظر آتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اس طرح سندھ میں عوام کو یہ تاثر دینے یں کامیاب رہتی ہے کہ وہ ان کے آئینی قانونی، مالی وسائل کے لیے وفاق سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس تسلسل میں یہاں مردم شماری کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس کا بھی انعقاد ہوچکا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ آبادی میں توازن نہ بگڑے جبکہ ان کا یہ بھی مشورہ تھا کہ غیر مقامی آبادی کے لیے ایک الگ سے خانہ رکھا جائے۔

sohail.sangi@gmail.com

شیر کی سواری


یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک 
سہیل سانگی

کراچی میں یہ محاورہ عام ہے کہ ایم کیو ایم میں کام کرنا شیر کی سواری ہے، جس پر کوئی ایک بار سوار ہوگیا تو اس سے اترنا ممکن نہیں۔ لیکن اس شیر کا سائیز کم کرنے میں و ہی قوتیں آج سب سے زیادہ سرگرم نظر آتی ہیں جس نے اس کو شیر کے ساتھ کراچی کا بادشاہ بنادیا تھا۔

 چند سال قبل تک ایم کیو ایم کے خلاف کسی کی سیاسی تقریر اور تحریر ممکن ہی نہ تھی یعنی چلتے چلتے کیبل ٹی وی چینل اندھیرے میں غائب ہوجاتے اور پیمرا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا لیکن گزشتہ دنوں جس طرح ایم کیو ایم کے منحرف رہنما اور سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال نے کمالات کا اظہار کیا اس سے قبل صرف ایم کیو ایم کو ہی یہ اعزاز حاصل تھا کہ اس کے سربراہ الطاف حسین کی تقریر بغیر کسی رخنے کے نشر کی جاتی تھی۔

ماضیایسا بھی ہوا کہ ایک ٹی وی چینلز پر جب الطاف حسین کی بات چیت درمیان میں روک کر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو لیا گیا تھا تو الطاف حسین کس قدر برہم ہوئے تھے، یہ سچ ہے کہ آج بھی کئی صحافتی اداروں میں ایم کیو ایم کا اثر رسوخ موجود ہے، یہ بات نہیں ہے کہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی حتیٰ کہ بعض فرقہ ورانہ جماعتیں اس سے منبرا ہیں وہ بھی اپنے نظریاتی ساتھی رکھتی ہیں فرق یہ ہے کہ ایم کیو ایم زیادہ موثر اور متحرک ہے۔

صورتحال اس قدر تبدیل ہوگئی ہے کہ کراچی آپریشن میں سرگرم ایک ادارے کے حکام شہر کے وسط میں گارمنٹس بازار کے درمیان واقع ایک ٹی وی چینل میں بیٹھ کر ایم کیو ایم کے بارے میں نیوز پیکیج بناتے ہیں اسکرپٹ اور فوٹج تک ان کی اپنی ہوتی ہے اور یہ جوں کا توں نشر بھی ہوتا ہے، بعض ملازمین نے اس بار ناراضگی کا بھی اظہار کیا لیکن ساتھ میں انہیں تجویز دی گئی کہ ان حکام کو کہا جائے کہ وہ دن دھاڑے آنے کے بجائے شب نو بجے کے آس پاس آیا کریں۔ قارین کو یاد ہوگا کے گزشتہ کچھ عرصے میں ایک چینل کا پر امن بائیکاٹ اور احتجاج بھی کیا جاچکا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز میں ایک منظم اور مربوط میڈیا سیل موجود ہے اس قدر کہ گزشتہ دنوں بین الاقوامی میڈیا سے رابطے کے لیے الگ سے لوگ رکھے اور دفتر بنایا گیا ہے، الطاف حسین کی رہائش گاہ کے اوپر کے حصے میں ٹی وی مانیٹرنگ روم واقع ہے جہاں سے کئی چینل کی نگرانی کی جاتی ہے، بریکنگ نیوز کے سنیپ لیکر واٹس اپ پر ان کے اپنے گروپ کو بھیجے جاتے ہیں جس سے مرکزی قیادت اور پارلیامینٹرین ملک میں ہر بڑی خبر اور پیش رفت سے آگاہ رہتے ہیں اس نظام سے دیگر جماعتیں اور ان کی قیادت محروم ہے۔

مانیٹرنگ سیل میں ہر مذاکرے اور خبر جس میں ایم کیو ایم کا ذکر ہے کی وقت کے ساتھ رکارڈنگ محفوظ رکھی جاتی ہے اور اس کو کیٹلاگ کی صورت میں محفوظ بنایا جاتا ہے۔ جس کے لیے کئی ٹریرا بائیٹس کی ہارڈ ڈسک بھی وہاں موجود ہیں۔ اس مانیٹرنگ سیل میں ایک آئی ٹی ایکسپرٹ سمیت کوئی آٹھ سے دس لوگ کام کرتے ہیں جن کی چوبیس گھنٹوں میں شفٹس تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

 پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پچھلے دنوں ایک میڈیا سیل بنایا ہے، جس میں بھی ٹی وی چینلز کی نگرانی کی جاتی ہے۔ جب کراچی میں پشتون مہاجر کشیدگی عروج پر تھی تو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر موجودہ سنیٹر شاہی سید کی رہائش گاہ کے گراو ¿نڈ فلور پر میڈیا سیل بناکر بعض ٹی وی چینلز کی نگرانی کی گئی۔

ابلاغ عامہ کا رائے عامہ ہموار کرنے میں کتنا اہم کردار ہے یقینن ایم کیو ایم سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا، اسی لیے قارئین نے دیکھا ہوگا کہ ایم کیو ایم کے اراکین ٹی وی ٹاک شوز اور پریس کانفرنس میں کس قدر پر اعتماد اور پر طیش نظر آتے ہیں اور کئی تو صورتحال کی مناسبت سے شعر بھی داغ دیتے ہیں جن میں حیدر عباس رضوی، ڈاکٹر فاروق ستار اور فیصل سبزواری سر فہرست ہیں اس کی وجہ تربیت ہے جس کا الگ سے انتظام کیا جاتا ہے۔

مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ تک کے تیس پینتیس سالوں میں ایم کیو ایم نے ملک کے سب سے بڑے اخبار کے علاوہ کئی نشریاتی اداروں کا بائیکاٹ کیا اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کرنے میں کمال کامیابی حاصل کی ۔ذرہ یاد کیجئے کہ وزیر اعظم اور صدر کی خبروں سے پہلے الطاف حسین کے بیان کو آگاہ رکھا جاتا یعنی نیوز پروٹوکول ہی تبدیل ہوگئے۔ اس صورتحال میں تبدیلی 2011 میں اس وقت آئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے منحرف رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مستعفیٰ ہونے کے ساتھ وہ ہی الزامات عائد کیے جو چند روز قبل مطفیٰ کمال نے لگائے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد میڈیا نے کھل کر ایم کیو ایم کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا اور خاص طور پر اسلام آباد اور لاہور کے اینکر پرسن اور وہ چینلز جن کا مرکزی سیٹ اپ کراچی سے باہرہے انہوں نے ایک دوسری لائن اختیار کرلی۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور مصطفیٰ کمال میں اگر مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ قدر دونوں کے کردار میں مشھابت نظر آئیگی، مثال کے طور پر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور اپنے وزارت کے بادشاہ رہے، اسی طرح مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے قریب رہے جس کو وہ اپنا بیٹا قرار دیتے تھے، کراچی کی ناظم اعلیٰ کے دنوں میں وہ کسی اور کی نہیں سنتے تھے۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پیپلز پارٹی کے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پر ناراضگی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک پر ذاتی اور سیاسی تنقید کرتے رہے تھے اسی طرح مصطفیٰ کمال کی بھی ناراضگی 2008 سے شروع ہوتی ہے جب ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، اس کے ساتھ وہ بھی رحمان ملک کو لپیٹ میں لیکر آئے ہیں اور پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے بارے میں جب دبئی میں محمد انور اور طارق میر بریفنگ دینے آئے اور بتایا کہ انہوں نے اسکارٹ لینڈ یارڈ پولیس کو کیا کیا بتایا ہے تو اس وقت بھی رحمان ملک موجود تھے، مصطفیٰ کمال کے مطابق اس قدر کہ لندن میں آصف علی زرداری اور رحمان ملک کی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے جو پریس رلیز جاری ہوتے تھے وہ بھی رحمان ملک جاری کرتے تھے۔

یہاں یہ بتانا ضروری نہیں کہ پاکستان کے کچھ ادارے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے اس بات پر خفا ہیں کہ انہوں نے کئی امریکی حکام کو سفارتی ویزے جاری کیے جو کہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے، اسی طرح جب ایم کیو ایم نے سندھ میں مخالفت کے باوجود بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کو سینیٹ کا چیئرمین منتخب کرنے کے لیے ووٹ دیا تو اس پر بھی مسلم لیگ ن اور دیگر ادارے ناخوش ہوئے۔ اس وقت جس طرح رضا ربانی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے افغانستان کے دورہ اور مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کی اجلاس نہ ہونے پر ریمارکس دیتے ہیں اس سے ان اداروں اور مسلم لیگ نے کے اپنے طور پر خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔

 ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے الزامات کی بنیاد پر میڈیا کئی روز متحدہ قومی موومنٹ کو کٹھرے میں کھڑا کرکے سوال کرتا رہا لیکن اس سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو کوئی مقبولیت حاصل ہوئی اور نہ ہی ایم کیو ایم کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع ہوئی انہیں ہی الزامات کے ساتھ ملک میں جو سونامی سیاست نے جنم لیا اور تحریک انصاف آگے آئی اس نے اس صورتحال کا فائدہ لینے کی کوشش کی اور ساتھ میں میڈیا کی ہمدردی یا دوسری اختیار کرلی لیکن اس میں چمک کا عنصر زیادہ کہا جاتا ہے۔

 2013 کے عام انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ نے کامیابی حاصل کرلی، اس قدر کہ سکھر سے بھی اس کو ایک نشست مل گئی، جس کو اب مصطفیٰ کمال تنظیمی ڈہانچے کا کمال قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہی ڈھانچہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کیوں مات کھا گیا؟ جب سکھر میں بلدیاتی انتخابات میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ خیال ہے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تصویر اور تقریر کی بنیاد پر الیکشن لڑتی ہے جس کو نشر کرنے پر لاہور ہائی کورٹ نے پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ دوسرے مرحلے میں متبادل انتظامات کے باعث اسی ایم کیو ایم نے کئی شہروں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے مبینہ رازوں سے پردہ اٹھایا جس کے بعد ایک جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم بنائی گئی لیکن شاہد حامد کے ورثا نے کسی دباو ¿ کو قبول کیے بغیر معافی سے انکار کیا اس صورتحال میں ایک بار پھر میڈیا کئی روز کا راشن مل گیا لیکن ملزم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

کراچی میں رینجرز آپریشن نے جب کرپشن کا رخ کیا اور ڈاکٹر عاصم حسین کو حراست میں لیا گیا تو ایک بار پھر الزامات کی ایک نئی فہرست ساتھ آئی جس میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ساتھ ساتھ کھڑا کردیا گیا، ڈاکٹر عاصم کیس بھی ٹاک شوز کا مواد بننے کے علاوہ آگے نہیں بڑہ سکا ہے، حکام بھی جانتے ہیں کہ الزامات کو ثابت کرنا تو ممکن نہیں لیکن بدناموسی کی جاسکتی ہے۔

سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کوئی دھماکہ کریں گے یہ بات گزشتہ تین سالوں سے متوقع تھی یہ بھی کئی سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں بات عام تھی کہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد ایم کیو ایم کے پاس ایسی قیادت کا فقدان ہے جو لوگوں میں بھی مقبول ہو، اگر الطاف حسین کو سزا ہوجاتی ہے تو پاکستان میں کس کو آگے لایا جائے اس موقعے کی تاڑ میں کئی حلقے بیٹھے تھے اور لندن میں منی لانڈرنگ کیس میں پیش رفت ہونے کے ساتھ ان حلقوں نے بھی ڈوری ہلانے شروع کردیں۔

ماضی میں غریب اردو آبادی لائنز ایریا اور لانڈھی سے ایم کیو ایم کے خلاف بغاوت کی آواز آئی لیکن اس بار یہ آواز ڈفینس سے سنائی دی ہے، جہاں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آفاق احمد کی بھی رہائش گاہ ہے۔ نوے کی دہائی کی مشق، انداز اور الزامات اس عرصے میں اگر تبدیل ہوا ہے تو وہ ہی میڈیا کی جدت جو ایم کیو ایم سے بھی طاقتور ہاتھوں میں ہیں اور وہ اس کا درست استعمال بھی کرنا جانتے ہیں۔
http://www.dailyausaf.com/story/97711



مشترکہ مفادات کی کونسل: لو جی رسم پوری ہوگئی


یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ۔۔۔ سہیل سانگی

مشترکہ مفادات کی کونسل: لو جی رسم پوری ہوگئی

مشترکہ مفادات کی کونسل ے ایک سال کی تاخیر کے بعد گزشہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا واقعی کوئی فیصلہ کیا گیا؟ اس کا جواب یقیننا نفی میں ہی آئیگا کیونکہ سوائے اس بات کہ رواں ماہ مارچ میں مجوزہ مردم شماری ملتوی ہوگئی ہے اور کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا حالانکہ یہ فیصلہ چند ہفتے پہلے ہی ہوچکا تھا جب عسکری قیادت نے تین لاکھ سے زائد فوجی جوان فراہم کرنے سے معذرت کی تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ کیونکہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں فوج مصروف عمل ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہے۔

وجہ صرف یہ ہی نہیں تھی، خود حکومت اور محکمہ شماریات اور اس سے منسلک اداروں کے پاس بھی تیاری مکمل نہیں تھی، جبکہ یہ ایک ماہ کے اندر پورے ملک میں ہونے والی ایک بڑی مشق ہے، جس کے لیے تیاری اور ساتھ مطلوبہ سامان کی اشد ضرورت ہے جوکہ چند ہفتوں میں ممکن نہیں تھا۔
تمام سرکاری اداروں میں براجمان بیورکریسی اتنی اچھی اور فعال ہوتی تو عام آدمی کے مسائل خود بخود حل ہوجاتے، ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں پر معمولی کام کی بھی اگر پیروی نہ کی جائے تو وہ کام نہیں ہوتا ہے۔ مردم شماری میں تو بڑے پیمانے پر فائیلوں کی حرکات اور فیصلہ سازی کے معاملات تھے۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نے یہ موقعہ دیاہے کہ مردم شماری ملتوی کرنے الزام اس کے گلے میں ڈالا جائے۔ حد کمال یہ ہے کہ اجلاس میںمردم شماری کے حوالے سے ماضی کے اعتراضات اور تحفظات کو چھوا تک تک نہیں گیا ہے۔یعنی سی سی آئی نے ایک ہی فیصلہ کیاکہ مردم شماری فی الحال نہ ہو۔ یہ تو فیصلہ نہیں بلکہ فیصلے کو روکنا کہلائے گا۔ 
 مردم شماری کے بارے میں بڑے اعتراضات موجود تھے، پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ مردم شماری کا انعقاد اور اس کا انعقاد کس طرح کیا جائے یہ اختیار مشترکہ مفادات کی کونسل کا ہے، لیکن در حقیقیت کونسل خود ہی ہوا میں کھڑی ہے، آئین کے مطابق اس کا مستقل سیکریٹریٹ بنانا ہے، ا یک ایسا ادارا جس کا کوئی دفتر نہیں اور جس کا کام اجلاسوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے وہ کس طرح مردم شماری منعقد کرسکتی ہے؟
یہ ہی وجہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کو ایک ادارے کی حیثیت دینے سے مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان ابھی کئی معاملات لٹکے ہوئے ہیں جن کو ابھی طئے ہونا باقی ہے۔ اس ضمن سے کئی مشکلات اس کونسل کے سامنے آئیں گی۔ لیکن اس کی اپنی کوئی اہلیت اور گنجائش نہیں ہوگی تو یقینن اس کو دوسرے اداروں کی جانب دیکھنا ہوگا۔اگر آسان الفاظ میں کہا جائے کہ وفاقی حکومت اس ادارے کو فعال اور موثر دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ اس کو یہ خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت کے ہاتھ سے کچھ محکمے اور اختیارات صوبوں کے پاس چلے جائیں گے اس کا یہ مطلب ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مکمل طور پر عمل درآمد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا رہے۔

آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اگر اس کی روح کے مطابق عمل ہو تو عملی طور پر وفاق کی پاس صرف چھ محکمے رہ جاتے ہیں، یعنی خزانہ ، دفاع، فارین افیئرز، اور کمیونیکیشن وغیرہ۔ او پر صدق دل سے عمل کی صورت میں وفاقی بالادستی اور گرفت کمزور ہوگی جو وفاقی اداروں کے علاوہ دیگر بااثر اور طاقتور حلقے بھی نہیں چاہتے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف تو کھل کر اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خود مختیاری کی مخالفت کرچکے ہیں۔

مردم شماری پر دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ محکمہ شماریات میں صوبوں کی نمائندگی برابر نہیں ہے، یہ سوال سندھ اور خیبر پختون خواہ نے اٹھایا گیا ہے لیکن مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کے حالیہ اجلاس میں اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہی لیا جارہا ہے کہ جب بھی مردم شماری ہوگی اسی نظام کے تحت ہوگی۔
پنجاب کے علاوہ دیگر تینوں صوبوں کا تیسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ تارکین وطن کو مردم شماری میں شامل نہ کیا جائے، سید قائم علی شاہ نے اجلاس میں شرکت کے بعد سندھ اسمبلی کو بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کو اعتراضات تھے کہ ان کے یہاں بڑی تعداد میں پناہ گزین آئے ہیں جب تک نادرا یا کوئی اور ادارا ان کی رجسٹریشن نہیں کرتا اور انہیں اطمینان نہیں ہوجاتا مردم شماری منعقد نہ کی جائے۔

تاہم سندھ کے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ سندھ اور بلخصوص کراچی میں دونوں صوبوں سے کہیں زیادہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ جن کے بارے میں سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح واپس بھیجا جائے۔ اس مشکلات کے باوجود بھی وہ مردم شماری چاہتے ہیں کیونکہ یہ مشکلات تو رہیں گی۔

وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے چاروں صوبوں کو حصہ دینے کے لیے کہا گیا جس پر صوبہ سندھ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن دوسرے صوبوں کے لوگ سندھ کے دار الحکومت کراچی میں آتے ہیں اس وجہ سے دوسرے صوبے اپنے حصے سے کراچی کے لیے بھی پانی دیں۔

سندھ اپنا یہ موقف قومی مالیاتی ایورڈ میں بھی ارکھتا آیا ہے۔کہ بڑے پیمانے پر ملک کے بالائی علاقوں اور تارکین وطن لوگوں کی سندھ میں آمد کی وجہ سے شہری سہولیات ، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقعوں پر دباو ¿ پڑتا ہے، اس لیے سندھ کے مالی وسائل میں اس بنیاد پر اضافہ ہونا چاہیے۔تاہم اس حوالے سے سندھ حکومت کے پاس پختہ ہوم ورک نہیں ہے، جو واضح الفاظ میں بیان کیا جاسکے۔

سندھ حکومت کی بیوروکریسی میں سوائے چند لوگوں کے باقی ایسے افراد موجود ہیں جن کو اپنے محکمے کی ترقیاتی بجٹ خرچ کرنا، اسکیمیں بھی بنانا نہیں آتیں۔ صوبائی حکومت جب یہ داغ لیکر بیٹھی ہے تو مستقبل کی منصوبہ بندی، وفاق و بین الصوبائی فورم پر میں بغیر ہوم ورک اور اعداد و شمار کے کیسے بات ہوسکتی ہے۔ بغیر دلائل کے اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش نہیں ہوسکتا۔
پیر کے اجلاس میں خیبر پختون خواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس بات پر زور دیا کہ افغان پناہ گزین کی ان کے صوبے میں واپسی کا بندوست کیا جائے ، اس طرح سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی آئی کہ جس طرح ہر صوبے میں بلدیاتی انتخابات الگ الگ سطح پر منعقد کیے گئے اسی طرح مردم شماری بھی اسی طرز پر منعقد کی جائے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ دو صوبے مردمشماری نہیں چاہتے تھے جبکہ پنجاب کا موقف مبہم تھا۔

ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اگر اپوزیشن اکثریت میں نہں ہوتی تو شاید کئی آئینی ادارے اپنا کردار ہی ادا نہیں کرتے لیکن سینیٹ کے متحرک کردار نے ریاستی اداروں کو فعال رکھا ہوا ہے ، اسی سینیٹ کا ہی دباﺅ تھا کہ پندرہ روز کے اندر مشرکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خالق بھی ہیں اور اس ترمیم کے تحت نوے روز میں ایک بار مشترکہ مفادات کاو ¿نسل کا اجلاس منقعد کرنا لازمی ہے لیکن تاحال ربانی صاحب ایسا نہیںکراسکے ہیں۔

کونسل کا حالیہ اجلاس ، ایک رسمی اجلاس کے طور پر سامنے آیا حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اجلاس کا ایجنڈہ صوبوں کی مشاورت سے طیے کیا جاتا اور صوبوں سے تجاویز لی جاتیں لیکن وفاق نے اپنی بالادستی قائم رکھی۔

سندھ کے قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مردم شماری ملتوی کرنے پر تنقید کی جارہی ہے، ان کا موقف ہے کہ مردم شماری کا انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں ملے گا کیونکہ پنجاب کا حصہ مزید تقسیم ہوگا اس لیے وفاقی حکومت خود ہی مردم شماری کے انعقاد میں دلچپسی نہیں رکھتی۔ بقول جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کے کہ میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعظم بن چکے ہیں اور وہ سندھ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
 صوبے نظر انداز ہوتے ہوں تو ہوتے رہیں۔ وفاقی حکومت ایسے منصوبوں میں زیادہ سرگرم نظر آتی ہے جن کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں اس کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں جبکہ آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور قانون سازی میں اس کی دلچسپی کم ہے۔